ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکر تیز چل کر لگائے اور چار چکر عام رفتار سے چل کر لگائے ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تو آپ سیلاب کے بہاؤ والی جگہ پر تیز چلتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ حجر اسود کے پاس آئے تو اسے بوسہ دیا ، پھر آپ اپنی دائیں جانب پر چلے تو تین چکر تیز چل کر چار چکر عام رفتار سے چل کر لگائے ۔ رواہ مسلم ۔
زبیر بن عربی ؒ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عبداللہ بن عمر ؓ سے حجر اسود کو بوسہ دینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسے ہاتھ لگاتے اور بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف دو رکن یمانی (حجر اسود اور رکنِ یمانی) کو چھوتے ہوئے دیکھا ہے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا ، آپ چھڑی کے ساتھ حجر اسود کو چھوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا جب آپ حجر اسود کے پاس آتے تو آپ اپنے ہاتھ میں موجود کسی چیز کے ساتھ اشارہ کرتے اور اللہ اکبر کہتے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوطفیل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ کا طواف کرتے اور آپ کے پاس جو چھڑی تھی اس کے ساتھ حجر اسود کو چھوتے ہوئے دیکھا اور آپ چھڑی کو بوسہ دیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صرف حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ، جب آپ مقام سرف پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شاید کہ تمہیں حیض آ گیا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ تو ایک ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں پر مقدر کر دیا ہے ، تم جب تک حیض سے پاک نہیں ہو جاتیں ، بیت اللہ کے طواف کے سوا دیگر حاجیوں کی طرح امور بجا لاتی رہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے اس حج میں ، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حجۃ الوداع سے پہلے امیر حج بنا کر بھیجا تھا ، مجھے ایک جماعت کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ ’’ لوگوں میں اعلان کر دیا جائے کہ سن لو ! اس سال کے بعد کوئی مشرک بیت اللہ کا حج کرے نہ کوئی برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مہاجر مکی ؒ بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہے ، انہوں نے فرمایا : ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو ہم اس طرح نہیں کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مدینہ سے) روانہ ہوئے ، جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجر اسود کی طرف آئے اسے بوسہ دیا ، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر صفا پر آئے تو اس کے اوپر چڑھ گئے حتی کہ بیت اللہ نظر آنے لگا تو آپ ہاتھ اٹھا کر جس قدر چاہا ، اللہ کا ذکر اور دعائیں کرتے رہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے ، البتہ تم اس میں بات وغیرہ کر لیتے ہو ، جو شخص اس دوران بات کرے تو وہ صرف خیر و بھلائی کی بات کرے ۔‘‘ ترمذی ، نسائی ، دارمی ۔ امام ترمذی ؒ نے محدثین کی ایک جماعت کا ذکر کیا ہے ، جنہوں نے اسے ابن عباس ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و الدارمی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حجر اسود جنت سے نازل ہوا تھا تو وہ دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا لیکن اولادِ آدم کی خطاؤں نے اسے سیاہ کر دیا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا :’’ اللہ روز قیامت اسے اٹھائے گا تو اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور زبان ہو گی جس سے وہ بولے گا ، اور جس نے حق کے ساتھ اس کو بوسہ دیا ہو گا اس کے حق میں گواہی دے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حجر اسود اور مقام ابراہیم (وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر آپ نے بیت اللہ کی تعمیر کی) جنت کے دو یاقوت ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے نور کو ختم کر دیا ، اور اگر وہ ان کے نور کو ختم نہ کرتا تو وہ دونوں مشرق و مغرب کے مابین کو روشن کر دیتے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ حجر اسود اور رکن یمانی پر بہت زیادہ غلبہ (رش) کرتے تھے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی ایک صحابی کو ان پر غلبہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، انہوں نے فرمایا : میں اس لیے ایسے کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ان دونوں کو ہاتھ لگانا گناہوں کا کفارہ ہے ۔‘‘ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ہر ہفتے بیت اللہ کا طواف کرے اور اس کی حفاظت کرے تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے غلام آزاد کیا ہو ۔‘‘ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب وہ (طواف میں) ایک قدم رکھتا ہے اور دوسرا اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ایک گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن سائب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان یہ دعا کرتے ہوئے سنا :’’ ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
صفیہ بنت شیبہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ابوتجراہ کی بیٹی (حبیبہ ؓ) نے مجھے بتایا کہ میں قریش کی بعض عورتوں کے ساتھ خاندانِ ابوحسین کے گھر گئی تاکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا مروہ کے مابین سعی کرتے ہوئے دیکھیں ، میں نے آپ کو سعی کرتے ہوئے دیکھا اور سعی کی شدت کی وجہ سے آپ کا ازار بکھر رہا تھا ، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سعی کرنا تم پر فرض کر دیا ہے ۔‘‘ شرح السنہ ، اور امام احمد نے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ شرح السنہ و احمد ۔
قدامہ بن عبداللہ بن عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفا مروہ کے درمیان اونٹ پر سعی کرتے ہوئے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کو مارتے نہ ہٹاتے اور نہ کہتے کہ ہٹ جاؤ ، راستہ چھوڑ دو ۔ حسن یاتی ، رواہ شرح السنہ ۔
یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز رنگ کی چادر سے اضطباع (یعنی دایاں کندھا ننگا) کر کے بیت اللہ کا طواف کیا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔