خزیمہ بن جزی ؓ بیان کرتے ہیں میں نے بجو کھانے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا کوئی بجو بھی کھاتا ہے ؟‘‘ میں نے آپ سے بھیڑیا کھانے کے بارے میں سوال کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا کوئی صاحب ایمان بھیڑیا بھی کھاتا ہے ؟‘‘ ترمذی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : اس کی اسناد قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عبدالرحمن بن عثمان تیمی بیان کرتے ہیں ، ہم طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے ساتھ تھے اور ہم حالت احرام میں تھے ، ان (طلحہ ؓ) کو ایک (بھنا ہوا) پرندہ بطور ہدیہ بھیجا گیا جبکہ طلحہ سو رہے تھے ۔ ہم میں سے کچھ نے کھا لیا اور کچھ نے پرہیز کیا ، تو جب طلحہ ؓ بیدار ہوئے تو انہوں نے اسے کھانے والوں کی موافقت کی اور فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھایا تھا ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، (صلح حدیبیہ کے سال) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (عمرہ کرنے سے) روک دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر منڈایا ، اپنی ازواج مطہرات سے جماع کیا اور قربانی کی ، اور پھر اگلے سال عمرہ کیا ۔ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (عمرہ کرنے کے لیے) روانہ ہوئے تو قریش بیت اللہ پہنچنے سے پہلے حائل ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قربانیاں ذبح کیں ، اور آپ نے اپنا سر منڈایا جبکہ آپ کے بعض صحابہ نے سر کے بال کترائے ۔ رواہ البخاری ۔
مسور بن مخرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کی اور آپ نے اپنے صحابہ کو بھی اس کا حکم فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کافی نہیں ! اگر تم میں سے کسی کو حج سے روک دیا جائے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا مروہ کی سعی کرے ، پھر ہر چیز سے حلال ہو جائے (احرام کی پابندی ختم ہو جائے) حتی کہ اگلے سال حج کرے اور قربانی کرے ، اگر قربانی میسر نہ ہو تو پھر روزے رکھے ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضباعہ بنت زبیر ؓ کے پاس گئے تو ان سے فرمایا :’’ شاید کہ آپ نے حج کا ارادہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! مجھے کچھ تکلیف ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ حج کریں اور شرط قائم کر لیں ، اس طرح کہیں : اے اللہ ! میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہو گی جہاں تو مجھے (تکلیف کی وجہ سے آگے جانے سے) روک لے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم فرمایا کہ انہوں نے حدیبیہ کے سال جو قربانی کی تھی اس کے بدلے میں اب عمرۃ القضاء میں قربانی کریں ۔ ابوداؤد ۔ اس میں قصہ ہے اور اس کی سند میں محمد بن اسحاق (مدلس) ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
حجاج بن عمرو انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا اور وہ اگلے سال حج کرے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور ابوداؤد نے ایک دوسری روایت میں اضافہ نقل کیا ہے :’’ یا وہ بیمار ہو جائے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اور مصابیح میں ضعیف ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی وابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
عبدالرحمن بن یعمر دیلی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حج وقوفِ عرفات ہی ہے ، جو شخص مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے عرفہ میں قیام کر لے تو اس نے حج پا لیا ، اور منیٰ کے ایام تین ہیں ، جو شخص دو دن میں جلدی کر کے فارغ ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا :’’ (اب) ہجرت باقی نہیں رہی ، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے ، جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو نکلو ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا :’’ اللہ نے اس شہر کو زمین و آسمان کی تخلیق کے روز ہی حرام قرار دے دیا تھا ، وہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے روز قیامت تک حرام ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے اس میں قتال کرنا حلال نہیں کیا گیا ، اور میرے لیے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے حلال کیا گیا ، وہ اللہ کی حرمت کے باعث روز قیامت تک کے لیے حرام ہے ۔ اس کا کانٹا کاٹا جائے نہ اس کا شکار بھگایا جائے ، اور نہ ہی اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے سوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان کرے ، اور نہ ہی اس کی گھاس کاٹی جائے ۔‘‘ عباس ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! بجز اذخر (گھاس) کے ، کیونکہ وہ لوہاروں اور ان کے گھروں کے استعمال کی چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بجز اذخر (گھاس) کے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
اور ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے :’’ اس کا درخت کاٹا جائے نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے سوائے اس شخص کے جو اس چیز کا اعلان کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مکہ میں اسلحہ اٹھا کر چلنا کسی کے لیے بھی حلال نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے روز مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا ، جب آپ نے اسے اتارا تو کسی آدمی نے آ کر بتایا کہ ابن خطل غلافِ کعبہ کے ساتھ چمٹا ہوا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے قتل کر دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے روز (مکہ میں) داخل ہوئے تو آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا اور آپ حالت احرام میں نہیں تھے ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک لشکر کعبہ پر حملہ کرنے کا قصد کرے گا ۔ جب وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے تو ان کے اول و آخر تمام فوجیوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کے اول و آخر کو کیسے دھنسا دیا جائے گا ، جبکہ ان میں ان کی رعایا بھی ہو گی ، اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان کے اول و آخر سب کو دھنسا دیا جائے گا اور پھر انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ باریک پنڈلیوں والا ایک حبشی شخص کعبہ کو برباد کرے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ گویا میں اس سیاہ فام شخص کو دیکھ رہا ہوں جو کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھاڑ پھینکے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حرم میں ذخیرہ اندوزی کرنا الحاد ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ سے فرمایا :’’ میرے نزدیک تو سب سے اچھا اور سب سے پسندیدہ شہر ہے ، اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں اور نہ رہتا ۔‘‘ ترمذی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس کی اسناد غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔