Back to Mishkat Al-Masabih

The Rites of Pilgrimage

كتاب المناسك

Chapter 10

Hadith 2705
sahih
وَعَن خُزَيمةَ بنَ جَزَيّ قَالَ: سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ. قَالَ: أَوَ يَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ؟ . وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَكْلِ الذِّئْبِ. قَالَ: «أوَ يَأَكلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَاده بِالْقَوِيّ
Urdu

خزیمہ بن جزی ؓ بیان کرتے ہیں میں نے بجو کھانے کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا کوئی بجو بھی کھاتا ہے ؟‘‘ میں نے آپ سے بھیڑیا کھانے کے بارے میں سوال کیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا کوئی صاحب ایمان بھیڑیا بھی کھاتا ہے ؟‘‘ ترمذی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : اس کی اسناد قوی نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 2706
sahih
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كنَّا مَعَ طَلحةَ بنِ عُبيدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَافَقَ مَنْ أَكَلَهُ قَالَ: فَأَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عبدالرحمن بن عثمان تیمی بیان کرتے ہیں ، ہم طلحہ بن عبیداللہ ؓ کے ساتھ تھے اور ہم حالت احرام میں تھے ، ان (طلحہ ؓ) کو ایک (بھنا ہوا) پرندہ بطور ہدیہ بھیجا گیا جبکہ طلحہ سو رہے تھے ۔ ہم میں سے کچھ نے کھا لیا اور کچھ نے پرہیز کیا ، تو جب طلحہ ؓ بیدار ہوئے تو انہوں نے اسے کھانے والوں کی موافقت کی اور فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھایا تھا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2707
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ رَأَسَهُ وَجَامَعَ نِسَاءَهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابلا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، (صلح حدیبیہ کے سال) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (عمرہ کرنے سے) روک دیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر منڈایا ، اپنی ازواج مطہرات سے جماع کیا اور قربانی کی ، اور پھر اگلے سال عمرہ کیا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2708
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كَفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابه. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ (عمرہ کرنے کے لیے) روانہ ہوئے تو قریش بیت اللہ پہنچنے سے پہلے حائل ہو گئے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی قربانیاں ذبح کیں ، اور آپ نے اپنا سر منڈایا جبکہ آپ کے بعض صحابہ نے سر کے بال کترائے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2709
sahih
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

مسور بن مخرمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کی اور آپ نے اپنے صحابہ کو بھی اس کا حکم فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2710
sahih
وَعَن ابنِ عمَرَ أَنَّهُ قَالَ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا فَيَهْدِيَ أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَديا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کافی نہیں ! اگر تم میں سے کسی کو حج سے روک دیا جائے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا مروہ کی سعی کرے ، پھر ہر چیز سے حلال ہو جائے (احرام کی پابندی ختم ہو جائے) حتی کہ اگلے سال حج کرے اور قربانی کرے ، اگر قربانی میسر نہ ہو تو پھر روزے رکھے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 2711
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ. قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا: «لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ؟» قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً. فَقَالَ لَهَا: حُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي: اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حبستني
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضباعہ بنت زبیر ؓ کے پاس گئے تو ان سے فرمایا :’’ شاید کہ آپ نے حج کا ارادہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! مجھے کچھ تکلیف ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ حج کریں اور شرط قائم کر لیں ، اس طرح کہیں : اے اللہ ! میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہو گی جہاں تو مجھے (تکلیف کی وجہ سے آگے جانے سے) روک لے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2712
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُبَدِّلُوا الْهَدْيَ الَّذِي نَحَرُوا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِيهِ قِصَّةٌ وَفِي سَنَدِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم فرمایا کہ انہوں نے حدیبیہ کے سال جو قربانی کی تھی اس کے بدلے میں اب عمرۃ القضاء میں قربانی کریں ۔ ابوداؤد ۔ اس میں قصہ ہے اور اس کی سند میں محمد بن اسحاق (مدلس) ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2713
sahih
وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ من قَابل» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دواد وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: «أَوْ مَرِضَ» . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن. وَفِي المصابيح: ضَعِيف
Urdu

حجاج بن عمرو انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا اور وہ اگلے سال حج کرے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور ابوداؤد نے ایک دوسری روایت میں اضافہ نقل کیا ہے :’’ یا وہ بیمار ہو جائے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اور مصابیح میں ضعیف ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی وابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2714
sahih
وَعَن عبدِ الرَّحمنِ بنِ يَعمُرَ الدَّيْلي قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أيَّامُ مِنىً ثلاثةَ أيَّامٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّالِثِ
Urdu

عبدالرحمن بن یعمر دیلی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حج وقوفِ عرفات ہی ہے ، جو شخص مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے عرفہ میں قیام کر لے تو اس نے حج پا لیا ، اور منیٰ کے ایام تین ہیں ، جو شخص دو دن میں جلدی کر کے فارغ ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 2715
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا هِجرةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا» . وَقَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهُ لَمْ يحِلَّ القتالُ فيهِ لأحدٍ قبْلي وَلم يحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا» . فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ؟ فَقَالَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ»
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا :’’ (اب) ہجرت باقی نہیں رہی ، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے ، جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو نکلو ۔‘‘ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا :’’ اللہ نے اس شہر کو زمین و آسمان کی تخلیق کے روز ہی حرام قرار دے دیا تھا ، وہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے روز قیامت تک حرام ہے اور محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) سے پہلے اس میں قتال کرنا حلال نہیں کیا گیا ، اور میرے لیے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے حلال کیا گیا ، وہ اللہ کی حرمت کے باعث روز قیامت تک کے لیے حرام ہے ۔ اس کا کانٹا کاٹا جائے نہ اس کا شکار بھگایا جائے ، اور نہ ہی اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے سوائے اس شخص کے جو اس کا اعلان کرے ، اور نہ ہی اس کی گھاس کاٹی جائے ۔‘‘ عباس ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! بجز اذخر (گھاس) کے ، کیونکہ وہ لوہاروں اور ان کے گھروں کے استعمال کی چیز ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بجز اذخر (گھاس) کے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2716
sahih
وَفِي رِوَايَة لأبي هريرةَ: «لَا يُعضدُ شجرُها وَلَا يلتَقطُ ساقطتَها إِلاَّ مُنشِدٌ»
Urdu

اور ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے :’’ اس کا درخت کاٹا جائے نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے سوائے اس شخص کے جو اس چیز کا اعلان کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2717
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَحْمِلَ بمكةَ السِّلَاح» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مکہ میں اسلحہ اٹھا کر چلنا کسی کے لیے بھی حلال نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2718
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ وَقَالَ: إِنَّ ابْنَ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ. فَقَالَ: «اقتله»
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے روز مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا ، جب آپ نے اسے اتارا تو کسی آدمی نے آ کر بتایا کہ ابن خطل غلافِ کعبہ کے ساتھ چمٹا ہوا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے قتل کر دو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2719
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عمامةٌ سوْداءُ بِغَيْر إِحْرَام. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے روز (مکہ میں) داخل ہوئے تو آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا اور آپ حالت احرام میں نہیں تھے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2720
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ» . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَفِيهِمْ أسواقُهم وَمن لَيْسَ مِنْهُم؟ قَالَ: «يخسف وَآخِرِهِمْ ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک لشکر کعبہ پر حملہ کرنے کا قصد کرے گا ۔ جب وہ بیداء کے مقام پر ہوں گے تو ان کے اول و آخر تمام فوجیوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کے اول و آخر کو کیسے دھنسا دیا جائے گا ، جبکہ ان میں ان کی رعایا بھی ہو گی ، اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ان کے اول و آخر سب کو دھنسا دیا جائے گا اور پھر انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2721
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُخَرِّبُ الْكَعْبَة ذُو السويقتين من الْحَبَشَة»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ باریک پنڈلیوں والا ایک حبشی شخص کعبہ کو برباد کرے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2722
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَأَنِّي بِهِ أَسْوَدَ أَفْحَجَ يقْلعُها حجَراً حجَراً» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ گویا میں اس سیاہ فام شخص کو دیکھ رہا ہوں جو کعبہ کا ایک ایک پتھر اکھاڑ پھینکے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 2723
sahih
عَن يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «احْتِكَارُ الطَّعَامِ فِي الْحَرَمِ إِلْحَادٌ فِيهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ حرم میں ذخیرہ اندوزی کرنا الحاد ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2724
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: «مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب إِسْنَادًا
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ سے فرمایا :’’ میرے نزدیک تو سب سے اچھا اور سب سے پسندیدہ شہر ہے ، اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں اور نہ رہتا ۔‘‘ ترمذی اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس کی اسناد غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔