عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ ہم میں سے کسی نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ، کسی نے حج اور عمرہ کا اور کسی نے حج کا تلبیہ پکارا ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا ۔ جس نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا اس نے احرام کھول دیا ، اور جنہوں نے حج یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا تو انہوں نے دس ذوالحجہ تک احرام نہ کھولا ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ ملایا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے عمرے کے لیے تلبیہ کہا اور پھر حج کے لیے ۔ متفق علیہ ۔
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے احرام باندھنے کے لیے اپنا لباس اتارا اور غسل کیا (پھر احرام باندھا) ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کی چیزوں (خطمی اور گوند وغیرہ) سے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
خلاد بن صائب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جبریل ؑ میرے پاس تشریف لائے تو انہوں نے مجھے فرمایا کہ میں اپنے صحابہ کو بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دوں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
سہل بن سعد بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان تلبیہ پکارتا ہے تو اس کے دائیں اور بائیں زمین کے آخری کناروں تک تمام پتھر ، تمام درخت اور مٹی کے تمام ڈھیلے تلبیہ پکارتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحلیفہ کے مقام پر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ ان کلمات کے ساتھ تلبیہ پکارتے :’’ میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تمام سعادتیں اور بھلائیاں تیرے ہاتھوں میں ہیں ، میں حاضر ہوں ، رغبت اور طلب خیر تیری ہی طرف ہے اور عمل تیرے ہی لیے ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور الفاظ حدیث مسلم کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
عُمارہ بن خزیمہ بن ثابت اپنے والد سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ تلبیہ سے فارغ ہوتے تو اللہ سے اس کی رضا مندی اور جنت کا سوال کرتے اور اس کی رحمت کے ذریعے جہنم سے بچاؤ کی درخواست کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الشافعی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کرنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں میں اعلان کیا ، وہ اکٹھے ہو گئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’’ بَیْدَاء ‘‘ کے مقام پر تشریف لائے تو احرام باندھا ۔ رواہ البخاری ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، مشرک کہا کرتے تھے : ہم حاضر ہیں ، تیرا کوئی شریک نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ تم پر افسوس ہے ، بس بس اتنا ہی کہو ۔‘‘ (پھر وہ مشرک کہتے) مگر تیرا وہ شریک ہے جس کا تو مالک ہے اور (اس چیز کا بھی تو مالک ہے) جس کا وہ مالک ہے ۔ اور وہ بیت اللہ کا طواف کرتے وقت یہ کہا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں نو سال قیام فرمایا اور اس دوران حج نہ کیا ، پھر دسویں سال آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کرایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کا ارادہ رکھتے ہیں ، بہت سے لوگ مدینہ پہنچ گئے ، ہم آپ کے ساتھ روانہ ہوئے حتی کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس ؓ نے محمد بن ابی بکر ؓ کو جنم دیا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ اب میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غسل کر ، کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر احرام باندھ لے ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ذوالحلیفہ) مسجد میں نماز پڑھی پھر (اونٹنی) قصواء پر سوار ہوئے حتی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیداء پر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحیدی تلبیہ پکارا :’’ میں حاضر ہوں ، ہر قسم کی حمد ، تمام نعمتیں اور بادشاہت تیری ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔‘‘ جابر ؓ بیان کرتے ہیں ہم نے تو صرف حج کی نیت کی تھی ، ہمیں عمرہ کا پتہ نہیں تھا ، حتی کہ ہم آپ کے ساتھ بیت اللہ میں پہنچے ، تو آپ نے حجر اسود کو چوما ، سات چکر لگائے ، تین میں رمل کیا (ذرا اکڑ کر دوڑے) اور چار میں چلے ، پھر آپ مقام ابراہیم پر آئے تو یہ آیت پڑھی :’’ مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ ۔‘‘ آپ نے وہاں دو رکعتیں پڑھیں اور مقام ابراہیم ؑ کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی رکعت میں سورۂ کافرون اور دوسری میں سورۂ اخلاص پڑھی ۔ پھر آپ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوم کر دروازے سے نکل کر صفا کی طرف تشریف لے گئے ، جب آپ صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ‘‘ میں وہیں سے شروع کروں گا جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا سے شروع کیا اور اس پر چڑھ گئے حتی کہ آپ نے بیت اللہ دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ ہوئے تو اللہ کی توحید اور کبریائی بیان کی اور فرمایا :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے ہر قسم کی حمد سزاوار ہے ۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا ، اپنے بندے کی نصرت فرمائی ، اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دی ۔‘‘ پھر آپ نے اس دوران دعا فرمائی ، آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ فرمائے ۔ پھر آپ نیچے اترے اور مروہ کی طرف گئے حتی کہ جب آپ وادی کے نشیب میں تیزی سے اترنے لگے تو آپ دوڑنے لگے حتی کہ جب آپ چڑھنے لگے تو آپ معمول کے مطابق چلتے گئے حتی کہ آپ مروہ پر پہنچ گئے اور آپ نے وہاں بھی ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا ، حتی کہ جب آپ آخری چکر میں پہنچے تو آپ مروہ پر تھے اور صحابہ آپ کے نیچے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں سے آواز دیتے ہوئے فرمایا :’’ جس چیز کا مجھے اب پتہ چلا ہے اگر اس کا مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا اور میں اس (حج) کو عمرہ میں تبدیل کر لیتا ، جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہیں وہ احرام کھول دے ، اور اسے عمرہ میں بدل ڈالے ۔‘‘ سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا یہ اس سال کے لیے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیں اور دو مرتبہ فرمایا :’’ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ، اور یہ صرف ہمارے اسی سال کے لیے ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔‘‘ علی ؓ یمن سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربانی کے لیے اونٹ لے کر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سےپوچھا :’’ جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں نے کہا تھا : اے اللہ ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ پکارا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ میرے ساتھ قربانی کا جانور ہے لہذا تم احرام نہ کھولو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، قربانیوں کے جانوروں کی وہ جماعت جو علی ؓ یمن سے لائے تھے اور وہ جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساتھ لے کر آئے تھے (یہ سب) ایک سو تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان صحابہ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے ، کے سوا سب لوگوں نے احرام کھول دیے اوربال کتر لیے ، جب ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کا دن ہوا تو انہوں نے منیٰ کا ارادہ کیا اور حج کے لیے احرام باندھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے ، آپ نے وہاں (منیٰ میں) ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں ، پھر تھوڑی دیر قیام فرمایا حتی کہ سورج طلوع ہو گیا ، آپ نے نمرہ میں بالوں کا بنا ہوا خیمہ لگانے کا حکم فرمایا ، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے ، قریش کو اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ قریش کے دستورِ جاہلیت کے مطابق مشعرِ حرام (مزولفہ) میں وقوف فرمائیں گے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے گزر کر میدانِ عرفات میں تشریف لے گئے آپ نے دیکھا کہ نمرہ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے ، آپ وہاں اترے حتی کہ سورج ڈھل گیا تو آپ نے (اپنی اونٹنی) قصواء کے بارے میں حکم فرمایا تو اس پر پالان رکھ دیا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی کے نشیب (وادی عُرنہ) میں تشریف لائے اور لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’ بے شک تمہارا خون ، تمہارا مال تم (ایک دوسرے) پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی ، اس مہینے کی اور تمہارے اس شہر کی حرمت ہے ۔ سن لو ! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی ہے ، جاہلیت کے خون (یعنی قتل) بھی ختم کر دیے گئے اور ہمارے خون میں سے پہلا خون جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے ، اور وہ بنو سعد قبیلے میں دودھ پی رہا تھا کہ قبیلہ ہذیل نے اسے قتل کر دیا ، اور جاہلیت کا سود ختم کر دیا گیا ، اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) کا ہے ، وہ مکمل طور پر ختم ہے ، عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ، تم نے انہیں اللہ کی امان و عہد کے ساتھ حاصل کیا ہے ، اور اللہ کے کلمے کے ذریعے انہیں حلال کیا ہے ، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر (مسکن) پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں ، جسے تم ناپسند کرتے ہو ، لیکن اگر وہ ایسے کریں تو پھر تم انہیں ہلکی سی ضرب مار سکتے ہو ، اور میں تم میں ایک ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھامے رکھا تو پھر تم گمراہ نہیں ہونگے ، اور وہ ہے اللہ کی کتاب ۔ اور تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے پہنچا دیا ، حق ادا کر دیا اور خیر خواہی فرمائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور اسے لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا :’’ اے اللہ ! گواہ رہنا ، اے اللہ ! گواہ رہنا ۔‘‘ پھر بلال ؓ نے اذان دی اور پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر پڑھائی ، پھر اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھائی ، اور آپ نے ان دونوں (نمازوں) کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی ، پھر آپ سواری پر سوار ہوئے حتی کہ وقوف کی جگہ پر تشریف لے گئے ، آپ نے اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ چٹانوں کی جانب کیا ، اور جبل المشاۃ (پیدل چلنے والوں کی راہ میں واقع ریتلے تودے) کو اپنے سامنے کیا ، اور قبلہ رخ مسلسل وقوف فرمایا حتی کہ سورج غروب ہونے لگا ، تھوڑی سی زردی رہ گئی حتی کہ سورج کی ٹکیہ غائب ہو گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسامہ ؓ کو پیچھے بٹھایا اور وہاں سے چلے حتی کہ مزدلفہ تشریف لے آئے ، آپ نے وہاں ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشا کی نمازیں پڑھیں اوران دونوں کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی ، پھر آپ لیٹ گئے حتی کہ فجر پڑھی ، پھر قصواء پر سوار ہوئے اور مشعرِ حرام تشریف لائے ، قبلہ رخ ہو کر اس (اللہ) سے دعا کی اس کی تکبیر و تہلیل اور توحید بیان کی ، آپ مسلسل کھڑے رہے حتی کہ خوب اجالا ہو گیا ، آپ طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل دیے ، آپ نے فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا اور آپ وادی محسر پہنچے تو سواری کو تھوڑا سا تیز کیا ، پھر درمیانی راستے پر ہو لیے جو کہ جمرہ عقبی پر نکلتا تھا ، حتی کہ آپ اس جمرہ کے پاس پہنچے جس کے پاس درخت تھا ، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ، آپ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ، ان میں سے ہر کنکری ایسی تھی جسے چٹکی میں لے کر چلایا جا سکتا تھا ، آپ نے یہ کنکریاں وادی کے نشیب سے ماریں ، پھر آپ قربان گاہ تشریف لے گئے ، آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کیے ، پھر آپ نے یہ فریضہ علی ؓ کو سونپ دیا تو باقی اونٹ انہوں نے ذبح کیے ، اور آپ نے انہیں بھی اپنی قربانی میں شریک کیا ، پھر آپ نے حکم فرمایا اور ہر اونٹ سے ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر ہنڈیا میں ڈال کر پکایا گیا ، آپ دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی ؓ) نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور اس کا شوربا پیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوئے اور طواف افاضہ کیا ، نماز ظہر مکہ میں پڑھی ، پھر آپ بنو عبدالمطلب کے پاس تشریف لے گئے جو زم زم پلا رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عبدالمطلب کی اولاد ، پانی نکالو ، اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمہارے پانی پلانے کے اس کام میں لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا ۔‘‘ انہوں نے آپ کو ایک ڈول پانی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے نوش فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، حجۃ الوداع کے موقع پر ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ، ہم میں ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کے لیے احرام باندھا ، اور ہم میں بعض نے حج کے لیے احرام باندھا ، جب ہم مکہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے عمرہ کے لیے احرام باندھا اور وہ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تو وہ احرام کھول دے اور جس شخص نے عمرہ کے لیے احرام باندھا اور وہ قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے تو وہ عمرے کے ساتھ حج کے احرام کی نیت کر لیں ، پھر وہ احرام نہ کھولے حتی کہ وہ ان دونوں سے فارغ ہو جائے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ احرام نہ کھولے حتی کہ اپنی قربانی سے فارغ ہو جائے ، اور جس شخص نے حج کا احرام باندھا تھا تو وہ اپنا حج مکمل کرے ۔‘‘ وہ فرماتی ہیں ، مجھے حیض آ گیا لہذا میں نے بیت اللہ کا طواف کیا نہ صفا مروہ کی سعی کی ، اور میں عرفہ کے دن (نو ذوالحجہ) تک حالت حیض میں رہی ، میں نے تو عمرہ کے لیے احرام باندھا تھا ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ میں اپنے سر کے بال کھول کر کنگھی کروں اور حج کے لیے احرام باندھوں ، اور میں عمرہ ترک کر دوں ۔‘‘ میں نے ایسے ہی کیا حتی کہ میں نے اپنا حج پورا کیا ، پھر آپ نے (میرے بھائی) عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کو میرے ساتھ بھیجا اور مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنے عمرے کی جگہ تنعیم سے عمرہ کروں ۔ آپ ؓ بیان کرتی ہیں ، جن لوگوں نے عمرہ کے لیے احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کی ، پھر انہوں نے احرام کھول دیا ، پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد ایک طواف کیا ، رہے وہ لوگ جنہوں نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ ملایا تھا ، آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے گئے تھے ، آپ نے پہلے عمرہ کا احرام باندھا ، پھر حج کا احرام باندھا ، تو صحابہ کرام ؓ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کو عمرے کے ساتھ ملا کر فائدہ حاصل کیا ، کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو قربانی کے جانور اپنے ساتھ لے کر گئے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو قربانی کے جانور ساتھ نہیں لائے تھے ، جب نبی مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے تو اس کے لیے کوئی چیز حلال نہیں جو اس پر حرام تھی حتی کہ وہ اپنا حج پورا کر لے ، اور جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہیں لایا تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے ، صفا مروہ کی سعی کرے ، بال کٹوا کر احرام کھول دے ، پھر (حج کے موقع پر) حج کے لیے احرام باندھے ، اور قربانی کرے ، تو جو شخص قربانی کا جانور نہ پائے تو وہ تین روزے ایام حج میں اور سات روزے اپنے گھر پہنچ کر رکھے ۔‘‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ پہنچے تو آپ نے طواف کیا اور سب سے پہلے حجر اسود کو چوما ، پھر آپ نے تین چکر دوڑ کر لگائے اور چار چکر معمول کی چال چل کر لگائے ، جب آپ طواف مکمل کر چکے تو آپ نے مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر لگائے ، پھر آپ پر ان چیزوں میں سے کوئی بھی چیز حلال نہیں ہوئی تھی جو آپ پر حرام تھی حتی کہ آپ نے اپنا حج مکمل کیا اور قربانی کے دن قربانی کی اور بیت اللہ شریف پہنچ کر طوافِ افاضہ کیا ، پھر آپ کے لیے وہ تما م چیزیں حلال ہو گئیں جو آپ پر حرام ہوئیں تھیں ، اور جو لوگ قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ، اور جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو اس کے لیے تمام چیزیں حلال ہوں گی ، کیونکہ عمرہ روز قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو چکا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عطاء ؒ بیان کرتے ہیں، میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو اپنے ساتھ بہت سے لوگوں میں سنا ، انہوں نے فرمایا : ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے صرف اکیلے حج ہی کا احرام باندھا تھا ، عطاء بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ نے فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ تشریف لائے تو آپ نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم فرمایا : عطاء بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ احرام کھول دو اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ ۔‘‘ عطاء ؒ بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات (عورتوں کے پاس جانے) کو ان پر واجب قرار نہیں دیا تھا ، بلکہ ان (عورتوں) کو ان کے لیے مباح قرار دیا تھا ۔ ہم نے عرض کیا ، ہمارے میدانِ عرفات میں جانے میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے ، تو آپ نے ہمیں اپنی بیویوں کے پاس جانے (یعنی جماع کرنے) کا حکم فرمایا ، اور جب ہم میدانِ عرفات پہنچیں تو (گویا کہ) ہماری شرم گاہیں منی گرا رہی ہوں ۔ عطاء ؒ بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے گویا میں اِن کے ہاتھ کے اشارے کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اسے حرکت دے رہے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں کھڑے ہوئے تو فرمایا :’’ تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں ، تم سب سے زیادہ سچا اور تم سب سے زیادہ نیکوکار ہوں ، اگر میرے ساتھ میری قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی تمہاری طرح احرام کھول دیتا ، اگر وہ بات جو مجھے اب معلوم ہوئی ہے وہ پہلے معلوم ہو جاتی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا ، تم احرام کھول دو ۔‘‘ تو ہم نے احرام کھول دیا اور ہم نے سمع و اطاعت اختیار کی ، عطاء بیان کرتے ہیں ، جابر ؓ نے فرمایا : علی ؓ صدقات کی وصولی کے بعد وہاں (مکہ) پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے کس نیت سے احرام باندھا تھا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جس نیت سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا :’’ قربانی کرنا اور حالت احرام میں رہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، علی ؓ اپنے لیے قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے ۔ سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا یہ اسی سال کے لیے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہمیشہ کے لیے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار یا پانچ ذوالحجہ کو مکہ پہنچے تھے ، آپ میرے پاس تشریف لائے تو آپ غصہ کی حالت میں تھے ۔ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کو کس نے ناراض کیا ہے ؟ اللہ اسے جہنم میں داخل فرمائے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے لوگوں کو ایک کام کا حکم دیا ہے جبکہ وہ تردد کا شکار ہیں ۔ جس چیز کا مجھے اب پتہ چلا ہے اگر اس کا مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو میں قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہ لاتا حتی کہ میں اسے یہاں سے خرید لیتا ، پھر میں بھی احرام کھول دیتا جیسے انہوں نے احرام کھولا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر ؓ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے وادی ذی طویٰ میں رات بسر کرتے ، صبح کو غسل کرتے اور نماز پڑھ کر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے ، اور جب آپ وہاں سے نکلتے تو بھی وادی ذی طویٰ کے پاس سے گزرتے ، وہاں رات بسر کرتے اور بیان کرتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ اس کے بالائی حصے کی طرف سے داخل ہوئے اور اس کے نشیبی حصے کی طرف سے نکلے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کیا تو عائشہ ؓ نے مجھے بتایا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے وضو کیا ، پھر بیت اللہ کا طواف کیا ، پھر اسے عمرہ (کا طواف) نہ بنایا ، پھر ابوبکر ؓ نے حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے طواف کیا ، پھر انہوں نے بھی اسے عمرہ نہ بنایا ، پھر عمر ؓ اور پھر عثمان ؓ نے بھی اسی طرح کیا ۔ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو آپ سب سے پہلے تین چکر دوڑ کر لگاتے اور چار چکر چل کر لگاتے تھے ، پھر آپ دو رکعتیں پڑھتے اور صفا اور مروہ کی سعی فرماتے تھے ۔ متفق علیہ ۔