Back to Mishkat Al-Masabih

The Rites of Pilgrimage

كتاب المناسك

Chapter 10

Hadith 2665
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سألتُ أنسَ بنَ مالكٍ. قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يومَ الترويةِ؟ قَالَ: بمنى. قلت: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ. ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ
Urdu

عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں ، میں نے انس ؓ بن مالک ؓ سے دریافت کیا ، میں نے کہا : اگر آپ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی بات یاد کی ہو تو مجھے بتائیں کہ آپ نے ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : منیٰ میں ، پھر پوچھا : آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منیٰ سے واپس آتے ہوئے عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ فرمایا : وادی ابطح میں ، پھر فرمایا : جیسے تمہارے امرا کریں ویسے تم کرو ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2666
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أسمح لِخُرُوجِهِ إِذا خرج
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ابطح میں قیام کرنا سنت نہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو وہاں اس لیے قیام فرمایا تھا کہ وہاں سے (مدینہ کے لیے) روانہ ہونا زیادہ آسان تھا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2667
sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم بالأبطحِ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. هَذَا الْحَدِيثُ مَا وَجَدْتُهُ بِرِوَايَةِ الشَّيْخَيْنِ بَلْ بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ مَعَ اخْتِلَاف يسير فِي آخِره
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے مقام نتعیم سے عمرہ کے لیے احرام باندھا ، میں (مکہ میں) داخل ہوئی اور اپنا عمرہ ادا کیا ، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابطح کے مقام پر میرا انتظار فرمایا حتی کہ میں عمرہ سے فارغ ہو گئی تو آپ نے لوگوں کو کوچ کا حکم فرمایا ۔ آپ وہاں سے نکلے اور بیت اللہ کا طواف صبح کی نماز سے پہلے کیا ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ کےلیے روانہ ہوئے ۔ میں نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے حوالے سے یہ حدیث نہیں پائی ، بلکہ آخر پر تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ابوداؤد کی روایت میں پایا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2668
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ»
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، لوگ (منیٰ سے فارغ ہو کر) کسی بھی طریق سے واپس چلے جاتے تھے ، (یہ صورتحال دیکھ کر) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص مکہ سے نہ جائے حتی کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس ہو ، (طواف وداع کرے) البتہ حیض والی عورت کو مستثنیٰ قرار دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2669
sahih
وَعَن عائشةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَقْرَى حَلْقَى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قيل: نعم. قَالَ: «فانفري»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کوچ (کے دن) کی رات صفیہ ؓ کو حیض آ گیا ، تو انہوں نے عرض کیا ، میرا خیال ہے کہ (طوافِ وداع کی وجہ سے) میں نے تمہیں روک دیا ہے ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ (عرب کے محاورے کے مطابق) بے اولاد ، سر مُنڈی یا حلق میں بیماری والی ، (اس سے بددعا مراد نہیں ، بلکہ جیسے کہا جاتا ہے : تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ویسے ہی یہ الفاظ ہیں) کیا اس نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟‘‘ آپ کو بتایا گیا : جی ہاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پھر (مدینہ کی طرف) کوچ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2670
sahih
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ النَّحْر الْأَكْبَرِ. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلا لَا يجني جانٍ عَلَى نَفْسِهِ وَلَا يَجْنِي جَانٍ عَلَى وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ عَلَى وَالِدِهِ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قد أَيسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَدًا وَلَكِنْ ستكونُ لهُ طاعةٌ فِيمَا تحتقرونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَى بِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالتِّرْمِذِيّ وَصَححهُ
Urdu

عمرو بن احوص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا :’’ آج کون سا دن ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : حج اکبر کا دن ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اس شہر میں ، تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح حرام ہیں ، سن لو ! کوئی ظالم اپنی جان پر ظلم نہ کرے ، سن لو ! کوئی ظالم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے نہ بچہ اپنے والد پر ظلم کرے ، سن لو ! شیطان اس بات سے ہمیشہ کے لیے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی تمہارے اس شہر میں عبادت ہو ، لیکن تمہارے ایسے امور میں جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو ، اس کی اطاعت ہو گی تو وہ اس پر ہی راضی ہو جائے گا ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ۔ اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسناد حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 2671
sahih
وَعَن رافعِ بنِ عمروٍ والمُزَني قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَين قَائِم وقاعد. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

رافع بن عمرو مزنی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منیٰ میں چاشت کے بعد سیاہی مائل سفید خچر پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سنا ، جبکہ علی ؓ آپ کی طرف سے لوگوں تک بات پہنچا رہے تھے جبکہ لوگ کچھ کھڑے تھے اور کچھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2672
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
Urdu

عائشہ ؓ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قربانی کے دن طواف زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 2673
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طواف افاضہ کے ساتوں چکروں میں رمل نہیں فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 2674
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة وَقَالَ: إِسْنَاده ضَعِيف
Urdu

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی جمرہ عقبی کو کنکریاں مار لے تو بیویوں کے (ساتھ جماع کے) سوا اس کے لیے ہر چیز حلال ہو جاتی ہے ۔‘‘ شرح السنہ ۔ اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ شرح السنہ ۔

Hadith 2675
sahih
وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالنَّسَائِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كلُّ شيءٍ إِلا النساءَ»
Urdu

احمد اور نسائی کی ابن عباس سے مروی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب وہ کنکریاں مار لے تو بیویوں کے علاوہ ہر چیز اس پر حلال ہو جاتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و النسائی ۔

Hadith 2676
sahih
وَعَنْهَا قَالَتْ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ فَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دن کے پچھلے پہر جب آپ نے نماز ظہر ادا کی تو طواف افاضہ کیا ، پھر آپ منیٰ واپس تشریف لے آئے ، آپ نے ایام تشریق کی راتیں وہاں گزاریں ، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے ، پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کھڑے ہوتے ، لمبا قیام فرماتے اور تضرع و عاجزی کے ساتھ دعائیں کرتے ، اور آپ تیسرے کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 2677
sahih
وَعَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَن أَبِيه قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لرعاء الْإِبِل فِي البيتوتة: أَن يرملوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ فَيَرْمُوهُ فِي أَحَدِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ
Urdu

ابوالبداح بن عاصم بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو رات بسر کرنے کی رخصت دے دی کہ وہ یوم النحر کو کنکریاں ماریں پھر یوم نحر کے بعد وہ دو دن کی رمی کو جمع کر لیں اور ایک دن میں ہی کنکریاں مار لیں ۔ مالک ، ترمذی نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و النسائی ۔

Hadith 2678
sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يلبس مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ: «لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَيَلْبَسُ خُفَّيْنِ وليقطعهما أَسْفَل الْكَعْبَيْنِ وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ وَلَا وَرْسٌ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَزَادَ الْبُخَارِيُّ فِي رِوَايَةٍ: «وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تلبس القفازين»
Urdu

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کیا کہ احرام والا کون سے کپڑے پہن سکتا ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قمیض ، عمامے ، شلواریں ، جبے ، اور موزے نہ پہنو ، البتہ اگر کوئی شخص جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے اور ایسا کوئی کپڑا نہ پہنو جسے زعفران اور ورس کی خوشبو لگی ہو ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور امام بخاری نے ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ احرام والی عورت نقاب پہنے نہ دستانے ۔‘‘

Hadith 2679
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: «إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُحْرِمُ نَعْلَيْنِ لَبَسَ خُفَّيْنِ وَإِذَا لَمْ يَجِدْ إِزَارًا لَبَسَ سَرَاوِيل»
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطاب کرتے ہوئے سنا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ جب محرِم جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور جب وہ تہبند نہ پائے تو شلوار پہن لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2680
sahih
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالجعرانة إِذْ جَاءَ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَهَذِهِ عَلَيَّ. فَقَالَ: «أَمَا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ»
Urdu

یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم جعرانہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے جب ایک اعرابی آپ کے پاس آیا اس نے جبہ پہن رکھا تھا اور اس نے زعفران کی بنی ہوئی خوشبو بھی خوب لگا رکھی تھی ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور میں نے یہ (جبہ) پہن رکھا ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ رہی خوشبو جو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو دو ، اور رہا جبہ تو اسے اتار دو ، اور پھر اپنے عمرے میں ویسے ہی کر جیسے تو اپنے حج میں کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 2681
sahih
وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنكِحُ وَلَا يَخْطُبُ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ محرم اپنا نکاح کرے نہ کسی کا نکاح کرائے اور نہ ہی پیغامِ نکاح بھیجے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 2682
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ محرم
Urdu

ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حالت احرام میں میمونہ ؓ سے نکاح کیا ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 2683
sahih
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ابْنِ أُخْتِ مَيْمُونَةَ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهُوَ حَلَالٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ قَالَ الشيخُ الإِمَام يحيى السّنة: وَالْأَكْثَرُونَ عَلَى أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا حَلَالًا وَظَهَرَ أَمْرُ تَزْوِيجِهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهُوَ حَلَال بسرف فِي طَرِيق مَكَّة
Urdu

میمونہ ؓ کے بھانجے یزید بن الاصم ، میمونہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے شادی کی تو آپ محرم نہیں تھے ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ بیان کرتے ہیں ، اکثر محدثین کا یہ مؤقف ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے شادی کی تو آپ محرم نہیں تھے جبکہ آپ نے حالت احرام میں اس معاملے کو ظاہر فرمایا ۔ پھر آپ نے مکہ کے راستے میں مقام سرف پر ان سے خلوت اختیار کی ، جبکہ آپ حالت احرام میں نہیں تھے ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 2684
sahih
وَعَن أَبِي أَيُّوبَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ
Urdu

ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حالت احرام میں اپنا سر دھو لیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔