عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں ، میں نے انس ؓ بن مالک ؓ سے دریافت کیا ، میں نے کہا : اگر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات یاد کی ہو تو مجھے بتائیں کہ آپ نے ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : منیٰ میں ، پھر پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ سے واپس آتے ہوئے عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ فرمایا : وادی ابطح میں ، پھر فرمایا : جیسے تمہارے امرا کریں ویسے تم کرو ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ابطح میں قیام کرنا سنت نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو وہاں اس لیے قیام فرمایا تھا کہ وہاں سے (مدینہ کے لیے) روانہ ہونا زیادہ آسان تھا ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے مقام نتعیم سے عمرہ کے لیے احرام باندھا ، میں (مکہ میں) داخل ہوئی اور اپنا عمرہ ادا کیا ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابطح کے مقام پر میرا انتظار فرمایا حتی کہ میں عمرہ سے فارغ ہو گئی تو آپ نے لوگوں کو کوچ کا حکم فرمایا ۔ آپ وہاں سے نکلے اور بیت اللہ کا طواف صبح کی نماز سے پہلے کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کےلیے روانہ ہوئے ۔ میں نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے حوالے سے یہ حدیث نہیں پائی ، بلکہ آخر پر تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ ابوداؤد کی روایت میں پایا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، لوگ (منیٰ سے فارغ ہو کر) کسی بھی طریق سے واپس چلے جاتے تھے ، (یہ صورتحال دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص مکہ سے نہ جائے حتی کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس ہو ، (طواف وداع کرے) البتہ حیض والی عورت کو مستثنیٰ قرار دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کوچ (کے دن) کی رات صفیہ ؓ کو حیض آ گیا ، تو انہوں نے عرض کیا ، میرا خیال ہے کہ (طوافِ وداع کی وجہ سے) میں نے تمہیں روک دیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (عرب کے محاورے کے مطابق) بے اولاد ، سر مُنڈی یا حلق میں بیماری والی ، (اس سے بددعا مراد نہیں ، بلکہ جیسے کہا جاتا ہے : تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں ویسے ہی یہ الفاظ ہیں) کیا اس نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟‘‘ آپ کو بتایا گیا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پھر (مدینہ کی طرف) کوچ کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمرو بن احوص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا :’’ آج کون سا دن ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : حج اکبر کا دن ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اس شہر میں ، تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح حرام ہیں ، سن لو ! کوئی ظالم اپنی جان پر ظلم نہ کرے ، سن لو ! کوئی ظالم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے نہ بچہ اپنے والد پر ظلم کرے ، سن لو ! شیطان اس بات سے ہمیشہ کے لیے مایوس ہو چکا ہے کہ اس کی تمہارے اس شہر میں عبادت ہو ، لیکن تمہارے ایسے امور میں جنہیں تم معمولی سمجھتے ہو ، اس کی اطاعت ہو گی تو وہ اس پر ہی راضی ہو جائے گا ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ۔ اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسناد حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
رافع بن عمرو مزنی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منیٰ میں چاشت کے بعد سیاہی مائل سفید خچر پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سنا ، جبکہ علی ؓ آپ کی طرف سے لوگوں تک بات پہنچا رہے تھے جبکہ لوگ کچھ کھڑے تھے اور کچھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن طواف زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف افاضہ کے ساتوں چکروں میں رمل نہیں فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی جمرہ عقبی کو کنکریاں مار لے تو بیویوں کے (ساتھ جماع کے) سوا اس کے لیے ہر چیز حلال ہو جاتی ہے ۔‘‘ شرح السنہ ۔ اور انہوں نے فرمایا : اس کی سند ضعیف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ شرح السنہ ۔
احمد اور نسائی کی ابن عباس سے مروی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب وہ کنکریاں مار لے تو بیویوں کے علاوہ ہر چیز اس پر حلال ہو جاتی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دن کے پچھلے پہر جب آپ نے نماز ظہر ادا کی تو طواف افاضہ کیا ، پھر آپ منیٰ واپس تشریف لے آئے ، آپ نے ایام تشریق کی راتیں وہاں گزاریں ، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے ، پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کھڑے ہوتے ، لمبا قیام فرماتے اور تضرع و عاجزی کے ساتھ دعائیں کرتے ، اور آپ تیسرے کو کنکریاں مارتے اور اس کے پاس کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوالبداح بن عاصم بن عدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹوں کے چرواہوں کو رات بسر کرنے کی رخصت دے دی کہ وہ یوم النحر کو کنکریاں ماریں پھر یوم نحر کے بعد وہ دو دن کی رمی کو جمع کر لیں اور ایک دن میں ہی کنکریاں مار لیں ۔ مالک ، ترمذی نسائی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و النسائی ۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ احرام والا کون سے کپڑے پہن سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قمیض ، عمامے ، شلواریں ، جبے ، اور موزے نہ پہنو ، البتہ اگر کوئی شخص جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے اور ایسا کوئی کپڑا نہ پہنو جسے زعفران اور ورس کی خوشبو لگی ہو ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور امام بخاری نے ایک دوسری روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ احرام والی عورت نقاب پہنے نہ دستانے ۔‘‘
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :’’ جب محرِم جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور جب وہ تہبند نہ پائے تو شلوار پہن لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
یعلی بن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم جعرانہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے جب ایک اعرابی آپ کے پاس آیا اس نے جبہ پہن رکھا تھا اور اس نے زعفران کی بنی ہوئی خوشبو بھی خوب لگا رکھی تھی ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور میں نے یہ (جبہ) پہن رکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ رہی خوشبو جو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو دو ، اور رہا جبہ تو اسے اتار دو ، اور پھر اپنے عمرے میں ویسے ہی کر جیسے تو اپنے حج میں کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ محرم اپنا نکاح کرے نہ کسی کا نکاح کرائے اور نہ ہی پیغامِ نکاح بھیجے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالت احرام میں میمونہ ؓ سے نکاح کیا ۔ متفق علیہ ۔
میمونہ ؓ کے بھانجے یزید بن الاصم ، میمونہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے شادی کی تو آپ محرم نہیں تھے ۔ الشیخ الامام محی السنہ ؒ بیان کرتے ہیں ، اکثر محدثین کا یہ مؤقف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے شادی کی تو آپ محرم نہیں تھے جبکہ آپ نے حالت احرام میں اس معاملے کو ظاہر فرمایا ۔ پھر آپ نے مکہ کے راستے میں مقام سرف پر ان سے خلوت اختیار کی ، جبکہ آپ حالت احرام میں نہیں تھے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالت احرام میں اپنا سر دھو لیا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔