انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُحد پہاڑ نظر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ، اے اللہ ! بے شک ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرام قرار دیا ، اور میں مدینہ کے دونوں پتھریلی جگہ کے درمیانی علاقے کو حرام قرار دیتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
سلیمان بن ابی عبداللہ بیان کرتے ہیں ، میں نے سعد بن ابی وقاص ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں ، جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے ، شکار کر رہا تھا ، انہوں نے اس کا کپڑا سلب کر لیا ، تو اس کے مالک آپ کے پاس آئے اور آپ سے اس بارے میں بات چیت کی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حرم کو حرام قرار دیا ہے اور انہوں نے فرمایا :’’ جو شخص کسی کو اس میں شکار کرتا ہوا پائے تو وہ اس کا کپڑا سلب کر لے ۔‘‘ لہذا میں یہ رزق تمہیں واپس نہیں دوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عطا کیا ہے ، لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت تمہیں ادا کر دیتا ہوں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
سعد ؓ کے آزاد کردہ غلام صالح سے روایت ہے کہ سعد ؓ نے مدینہ کے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے ہوئے پایا تو انہوں نے ان کا سامان لے لیا ، اور ان کے مالکوں سے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ کے درخت سے کوئی چیز کاٹنے سے منع کرتے ہوئے سنا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اس کی کوئی چیز کاٹے تو جو شخص اسے پکڑے تو اس کا سامان اسی (پکڑنے والے) کو ملے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وج (طائف طائف کا کچھ علاقہ) کا شکار کرنا اور اس کے خاردار درختوں کا کاٹنا حرام ہے ، اللہ کے لیے حرام کیا گیا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ۔ اور امام محی السنہ نے بیان کیا :’’وج‘‘ کے بارے میں علما نے فرمایا ہے کہ وہ طائف کا ایک علاقہ ہے ، اور خطابی ؒ نے : اَنَّھَا کی جگہ اَنَّہ کہا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مدینہ میں فوت ہو سکتا ہو تو اسے اسی میں فوت ہونا چاہیے ، کیونکہ جو شخص اسی ہی میں فوت ہو گا میں اس کی شفاعت کروں گا ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس کی اسناد غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسلامی بستیوں میں سے مدینہ ایسی بستی ہے جو سب سے آخر میں ویران ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
جریر بن عبداللہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپ ان تینوں ، مدینہ یا بحرین یا قنسرین ، میں سے جہاں بھی قیام فرمائیں وہ آپ کا دار ہجرت ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوبکرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسیح دجال کا رعب مدینہ میں داخل نہیں ہو گا ، اس روز اس کے سات دروازے ہوں گے ، اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! تو نے جتنی برکت مکہ کو دی ہے اس سے دگنی مدینہ کو عطا فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔
آل خطاب میں سے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قصداً میری زیارت کے لیے آئے تو روز قیامت وہ میرے پڑوس میں ہو گا ، جو شخص مدینہ میں سکونت اختیار کرے اور اس کی مشکلات پر صبر کرے تو روز قیامت میں اس کے لیے گواہ بنوں گا یا سفارشی ہوں گا ، اور جو حرمین (مکہ ، مدینہ) میں کسی جگہ فوت ہوا تو روز قیامت وہ امن والوں میں سے ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ مرفوع روایت بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص حج کرے اور میری موت کے بعد میری قبر کی زیارت کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
یحیی بن سعید ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے جبکہ مدینہ میں ایک قبر کھودی جا رہی تھی ، ایک آدمی نے قبر میں جھانکا تو کہا : مومن کی بہت بُری جگہ ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے بہت بُری بات کی ہے ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا : میرا یہ ارادہ نہیں تھا ، میں نے تو یہ ارادہ کیا کہ اللہ کی راہ میں شہادت (بستر پر مرنے سے) افضل ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی راہ میں شہادت جیسی تو کوئی چیز ہی نہیں اور مجھے اپنی قبر کے لیے یہ خطۂ زمین پوری زمین میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔‘‘ آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی ۔ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؓ نے بیان فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وادی عقیق میں فرماتے ہوئے سنا :’’ آج رات میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا تو اس نے کہا : اس مبارک وادی میں نماز پڑھیں ، اور کہیں : عمرہ حج میں داخل ہو گیا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمائیں : عمرہ اور حج کی ایک ساتھ نیت کی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔