ابوبُردہ ؓ بیان کرتے ہیں ، عائشہ ؓ نے پیوند لگی ہوئی ایک چادر اور ایک موٹی تہبند ہمیں دکھائی اور فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان دو کپڑوں میں روح قبض کی گئی ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس بستر پر آرام فرمایا کرتے تھے ، وہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تکیہ جس پر آپ ٹیک لگایا کرتے تھے وہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم نصف النہار کی گرمی میں اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے ابوبکر ؓ سے فرمایا : یہ چادر کے کنارے سے سر ڈھانپ کر تشریف لانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ ایک بستر آدمی کے لیے ، ایک اس کی اہلیہ کے لیے ، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا (اگر ہو تو وہ) شیطان کے لیے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ روزِ قیامت اس شخص کی طرف (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھے گا جو تکبر کے طور پر اپنا ازار گھسیٹتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ روزِ قیامت اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا جو تکبر کے طور پر اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس اثنا میں کہ ایک آدمی تکبر کے طور پر اپنا تہبند گھسیٹتا تھا ، اس وجہ سے اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ، اور وہ روزِ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک جوتا پہن کر چلے اور یہ کہ وہ اپنے پورے جسم پر اس طرح چادر لپیٹ لے کہ ہاتھ بھی نہ نکل سکیں ، اور یہ کہ وہ ایک کپڑا اس طرح لپیٹ لے کہ شرم گاہ ننگی ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمر ، انس ، ابن زبیر اور ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمر ، انس ، ابن زبیر اور ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمر ، انس ، ابن زبیر اور ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمر ، انس ، ابن زبیر اور ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا میں صرف وہی شخص ریشم پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں کھانے پینے ، ریشم اور دیباج (ریشم کی ایک قسم) پہننے اور اس پر بیٹھنے سے ہمیں منع فرمایا ہے ۔ متفق علیہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ریشمی جوڑے کا تحفہ پیش کیا گیا تو آپ نے اسے میری طرف بھیج دیا ، میں نے وہ پہن لیا ، لیکن (بعد میں) میں نے آپ کے چہرے پر ناراضی دیکھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے اسے تمہاری طرف اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو ، میں نے تو اسے تمہاری طرف اس لیے بھیجا تھا کہ تم اسے پھاڑ کر خواتین کی اوڑھنیاں بنا لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ، مگر دو انگلیوں کی مقدار کے برابر اجازت فرمائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی درمیانی اور انگشت شہادت کو ملا کر انہیں بلند کر کے اس مقدار کی وضاحت فرمائی ۔ متفق علیہ ۔