ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر کوئی آدمی کسی ایسی چٹان میں کوئی عمل کرتا ہے جس کا کوئی دروازہ اور روشن دان نہیں ، تو اس کا یہ عمل جیسا بھی ہو لوگوں پر آشکار ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عثمان بن عفان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کی کوئی نیک یا بد خصلت چھپی ہوئی ہو تو اللہ اس سے کوئی علامت ظاہر فرما دے گا جس سے وہ پہچانا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عمر بن خطاب ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اس امت کے ہر منافق کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ بات حکمت کے ساتھ کرتا ہے جبکہ عملی طور پر ظلم کرتا ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
مہاجر بن حبیب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں دانا کے سارے کلام کو قبول نہیں کرتا ، لیکن میں اس کی نیت اور اس کے ارادے کو قبول کرتا ہوں ، اگر اس کی نیت اور اس کا ارادہ میری اطاعت میں ہے تو میں اس کی خاموشی کو اپنے لیے حمد و وقار قرار دے دیتا ہوں اگرچہ اس نے کلام نہ کیا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم (نافرمانوں کے عذاب کے متعلق) جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روؤ اور کم ہنسو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ام علاء انصاریہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا ، اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا جبکہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟‘‘ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے سامنے جہنم کی آگ پیش کی گئی تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت کو اس کی ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا دیکھا ، اس نے اسے باندھ رکھا تھا ، اس نے اسے نہ خود کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ حشرات الارض کھا سکے اسی حال وہ بھوکی مر گئی ، اور میں نے عمرو بن عامر الخزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا ، اور وہ پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی رسم ایجاد کی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
زینب بنت جحش ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں میرے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، عربوں کے لیے اس شر کے سبب تباہی ہے جو کہ قریب پہنچ چکی ہے ؟ آج یاجوج ماجوج کا بند اس قدر کھول دیا گیا ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں ، انگوٹھے اور انگشت شہادت سے حلقہ بنایا ، زینب ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک کر دیے جائیں گے جبکہ صالح لوگ ہم میں موجود ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، جب فسق و فجور زیادہ ہو جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابو عامر یا ابو مالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جوخز (ہلکی قسم کا ریشم) اور عام ریشم ، شراب اور آلات موسیقی کو حلال سمجھیں گے ، اور کچھ لوگ پہاڑ کے دامن کی طرف اتریں گے ان کے ساتھ ان کے مویشی آئیں گے ، ایک آدمی کسی ضرورت کے تحت ان کے پاس آئے گا ، تو وہ کہیں گے ، کل آنا ، اللہ انہیں راتوں رات عذاب میں مبتلا کر دے گا اور پہاڑ ان پر گرا دے گا جبکہ باقی لوگوں کی صورتیں مسخ کر کے روز قیامت تک بندر اور خنزیر بنا دے گا ۔‘‘ بخاری ۔ اور مصابیح کے بعض نسخوں میں ’’خز‘‘ کے بجائے ’’حر‘‘ ہے اور یہ تصحیف ہے ، جبکہ صحیح ’’خز‘‘ ہے ، الحمیدی اور ابن اثیر نے اس حدیث میں اسی کو راجح قرار دیا ہے ، اور کتاب الحمیدی میں امام بخاری کی سند سے ، اور اسی طرح بخاری کی شرح للخطابی میں ہے : ((تَرُوْحُ عَلَیْھِمْ سَارِحَۃٌ لَھُمْ یَأْتِیْھِمْ لِحَاجَۃِ)) رواہ البخاری و فی مصابیح السنہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو تمام لوگ اس عذاب کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں ، پھر وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق (روز قیامت) اٹھائے جائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر بندہ اپنے آخری عمل پر ، جس پر وہ فوت ہوا ، اٹھایا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے جہنم کی مثل کوئی چیز نہیں دیکھی کہ جس سے بھاگنے والا خواب غفلت میں ہو ، اور نہ ہی جنت کی نعمتوں و سرور کے مثل کوئی چیز دیکھی ہے جس کا چاہنے والا خواب غفلت میں ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھتے اور جو میں سنتا ہوں وہ تم نہیں سنتے ، آسمان نے آواز نکالی اور اسے چر چرانے کی آواز نکالنی بھی چاہیے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہاں ہر چار انگشت پر فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے اللہ کے حضور سر بسجود ہے ، اللہ کی قسم ! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ ، تم بستروں پر عورتوں (بیویوں) سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دو اور تم صحراؤں کی طرف نکل جاؤ اور اللہ کے حضور (دعاؤں کے ذریعے) آہ و زاری کرو ۔‘‘ ابوذر ؓ نے کہا : کاش ! میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص (رات کے آخری حصے میں سفر کرنے سے) ڈرتا ہو وہ رات کے ابتدائی حصے میں سفر کا آغاز کرتا ہے اور جو شخص رات کے ابتدائی حصے میں سفر کرتا ہے تو وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے ، سن لو ! اللہ کا سامان قیمتی ہے ، سن لو ! اللہ کا سامان جنت ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ ، اس کا ذکر عظیم الشان ہو ، فرمائے گا : ہر اس شخص کو جہنم کی آگ سے نکال دو جس نے (اخلاص کے ساتھ) کسی ایک روز بھی مجھے یاد کیا ہو یا وہ کسی جگہ مجھ سے ڈرا ہو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی کتاب البعث و النشور ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت :’’ وہ لوگ دیتے ہیں ، جو کچھ دیتے ہیں ، اور اس پر ان کے دل خوفزدہ ہیں ۔‘‘ کے متعلق دریافت کیا ، کیا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ صدیق کی بیٹی ! نہیں ، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں ، اور وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسے نہ ہو کہ وہ ان سے قبول نہ ہو ، یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور فرماتے :’’ لوگو ! اللہ کا ذکر کرو ، اللہ کا ذکر کرو ، زلزلہ آنے والا ہے ، اس کے متصل بعد دوسرا زلزلہ آنے والا ہے ، اور موت اپنی سختیوں کے ساتھ آ گئی اور موت اپنی سختیوں کے ساتھ آ گئی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائے تو آپ نے لوگوں کو دیکھا گویا وہ ہنس رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! اگر تم لذتوں کو قطع کر دینے والی (موت) کا کثرت سے ذکر کرتے تو وہ تمہیں اس چیز (ہنسنے) سے ، جو میں نے دیکھی ہے ، تمہیں باز رکھتی ، تم لذتوں کو قطع کرنے والی چیز یعنی موت کا کثرت سے ذکر کرو ، کیونکہ قبر ہر روز کہتی ہے : میں غیر مانوس کا گھر ہوں ، میں تنہائی کا گھر ہوں ، میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں مکوڑوں کا گھر ہوں ، اور جب بندہ مومن دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے خوش آمدید کہتی ہے ، سن لو ! میری سطح پر چلنے والے افراد سے تو مجھے سب سے زیادہ پسند تھا ، آج تو میرے سپرد کر دیا گیا ہے ، اور تو میرے پاس آ گیا ہے ، تو اپنے ساتھ میرا سلوک دیکھے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ اس کی حد نظر تک اس کے لیے فراخ کر دی جاتی ہے اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے ، اور جب فاجر بندہ یا کافر شخص دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے : تیرے لیے کسی قسم کا خیر مقدم نہیں ، سن لے ! میری سطح پر چلنے والے تمام افراد سے تو مجھے زیادہ ناپسند تھا ، تو آج میرے سپرد کیا گیا ہے ، اور تو میرے پاس آ گیا ہے ، تو عنقریب اپنے ساتھ میرا سلوک دیکھ لے گا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ اس پر تنگ ہو جاتی ہے ، حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کیفیت کر کے دکھائی کہ آپ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیں ، اور فرمایا :’’ اس پر ستر اژدھے مسلط کر دیے جائیں گے ، اور اگر ان میں سے ایک زمین پر پھونک مار دے تو وہ (زمین) رہتی دنیا تک کوئی چیز نہ اگائے ، وہ اسے ڈستے اور نوچتے رہیں گے حتیٰ کہ اسے حساب تک پہنچا دیا جائے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قبر تو باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گھڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ بوڑھے ہو گئے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سورۂ ہود اور اس جیسی سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ تو بوڑھے ہو گئے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سورۂ ہود ، واقعہ ، مرسلات ، عم یتساءلون اور سورۂ شمس نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ جہنم میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ باب الجھاد میں ذکر کی گئی ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔