Back to Mishkat Al-Masabih

Things that soften the heart

کتاب الرقاق

Chapter 25

Hadith 5295
sahih
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کے ستر ہزار افراد حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے ، یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑ کراتے ہیں اور نہ بدشگونی لیتے تھے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے تھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5296
sahih
وَعَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّجُلَانِ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَرَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ ثُمَّ قِيلَ لِي انْظُرْ فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ فَقِيلَ لِي انْظُرْ هَكَذَا وَهَكَذَا فَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفق فَقيل: هَؤُلَاءِ أُمَّتُكَ وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا قُدَّامَهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمُ الَّذِينَ لَا يَتَطَيَّرُونَ ولايسترقون وَلَا يَكْتَوُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» . ثُمَّ قَامَ رجل فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ. مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لائے تو فرمایا :’’ مجھ پر امتیں پیش کی گئیں ، چنانچہ ایک نبی گزرے ان کے ساتھ ایک آدمی تھا ، ایک اور نبی تھے اور ان کے ساتھ دو آدمی تھے ، اور ایک اور نبی تھے ان کے ساتھ چند آدمی تھے ، جبکہ کسی نبی کے ساتھ کوئی ایک بھی نہیں تھا ، میں نے ایک بڑا گروہ دیکھا جو افق تک پھیلا ہوا تھا ، میں نے امید کی کہ یہ میری امت ہو گی لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ موسیٰ ؑ اپنی قوم کے ساتھ ہیں ، پھر مجھے کہا گیا ، دیکھو ، میں نے بہت بڑا گروہ دیکھا جو افق تک پھیلا ہوا تھا ، مجھے کہا گیا : اس طرف (دائیں ، بائیں) دیکھو ، میں نے بہت بڑا گروہ دیکھا جو افق پر پھیلا ہوا تھا ، مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ، اور ان کے ساتھ ان کے آگے ستر ہزار ہیں جو حساب کے بغیر جنت میں جائیں گے ، یہ وہ لوگ ہیں جو کہ بدشگونی لیتے تھے نہ دم جھاڑ کراتے تھے اور نہ ہی داغتے تھے اور وہ صرف اپنے رب پر توکل کرتے تھے ۔‘‘ اتنے میں عکاشہ بن محصن ؓ نے کھڑے ہو کر عرض کیا ، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں شامل فرمائے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کو ان میں سے کر دے ۔‘‘ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے بھی ان میں کر دے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس میں عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5297
sahih
وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم «عجبا لأمر الْمُؤمن كُله خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ» رَوَاهُ مُسلم
Urdu

صہیب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے ، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے باعث خیر ہے ، اور یہ چیز صرف مومن کے لیے خاص ہے ، اگر اسے کوئی نعمت میسر آتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہے ، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5298
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ واستعن بِاللَّه ولاتعجز وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلَكِنْ قُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عمل الشَّيْطَان» رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قوی مومن ، ضعیف مومن سے بہتر ہے نیز وہ اللہ کو زیادہ پسند ہے ، اور سب (مومنوں) میں خیر ہے ، تو اپنے لیے نفع بخش چیز کے لیے محنت و کوشش کر اور اللہ سے مدد طلب کر اور عاجزی و سستی نہ کر ، اور اگر تجھے کوئی نقصان پہنچے تو ایسے نہ کہو : اگر میں (اس طرح ، اس طرح) کرتا تو اس طرح ، اس طرح ہوتا ، بلکہ ایسے کہو : اللہ نے مقدر کیا اور جو اس نے چاہا سو کیا ، کیونکہ (لفظ) ’’اگر‘‘ عمل شیطان کھولتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5299
sahih
عَن عمر بن الْخطاب قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جس طرح اس پر توکل کرنے کا حق ہے ، تو وہ تمہیں اس طرح رزق فراہم کرے جس طرح وہ پرندوں کو رزق فراہم کرتا ہے ، وہ صبح کے وقت بھوکے نکلتے ہیں اور شام کے وقت شکم سیر ہو کر واپس آتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 5300
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ يُقَرِّبُكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِهِ وَلَيْسَ شَيْءٌ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ النَّارِ وَيُبَاعِدُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا قَدْ نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ وَإِنَّ الرُّوحَ الْأَمِينَ - وَفِي روايةٍ: وإِن رُوحَ الْقُدُسِ - نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا أَلَا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوهُ بِمَعَاصِي اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللَّهِ إِلَّا بِطَاعَتِهِ «. رَوَاهُ فِي» شرح السّنة «وَالْبَيْهَقِيّ فِي» شعب الإِيمان إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: «وَإِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ»
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگو ! ہر وہ چیز جو تمہیں جنت کے قریب کر دے اور تمہیں جہنم سے دور کر دے میں اس کے متعلق حکم دے چکا ہوں ، اور ہر وہ چیز جو تمہیں جہنم کے قریب کر دے اور تمہیں جنت سے دور کر دے میں اس سے تمہیں منع کر چکا ہوں ، بے شک روح الامین ، اور ایک دوسری روایت میں ہے ، بے شک روح القدس نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ کوئی نفس اپنا رزق پورا کیے بغیر فوت نہیں ہو گا ، سن لو ! اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے رزق تلاش کرو اور رزق کی تاخیر تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اللہ کی نافرمانی کے ساتھ اسے طلب کرو ، کیونکہ اللہ کے ہاں جو (انعامات) ہیں وہ تو محض اس کی اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں ۔‘‘ شرح السنہ ، بیہقی فی شعب الایمان ، البتہ امام بیہقی نے ’’وَاِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ‘‘ کا ذکر نہیں کیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5301
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيم وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ بِمَا فِي يَد اللَّهِ وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ الرَّاوِي مُنكر الحَدِيث
Urdu

ابوذر ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دنیا سے بے رغبتی ، حلال کو حرام کرنے اور مال ضائع کرنے کا نام نہیں ، بلکہ دنیا سے بے رغبتی یہ ہے کہ جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے وہ اس چیز سے ، جو اللہ کے ہاتھوں میں ہے ، زیادہ قابل اعتماد نہ ہو ، اور یہ کہ نہ ہو تو مصیبت کے ثواب میں جب تو اس میں مبتلا کر دیا جائے ، رغبت کرنے والا کہ وہ (مصیبت) تجھے نہ پہنچتی ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور عمرو بن واقد راوی منکر الحدیث ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 5302
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: «يَا غُلَامُ احْفَظِ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظِ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ وَإِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتِ الأقلام وجفَّت الصُّحُف» رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے (سواری پر بیٹھا ہوا) تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لڑکے ! تو اللہ (کے احکام) کی حفاظت کر ، اللہ تیری حفاظت فرمائے گا ، تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ ، تو اسے اپنے سامنے پائے گا ، اور جب تو سوال کرے تو صرف اللہ سے کر ، جب تو مدد طلب کرے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر ، اور جان لے کہ اگر پوری امت بھی جمع ہو کر تجھے کچھ فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تجھے اس سے زیادہ کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے ، اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو وہ تجھے اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے ، قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 5303
sahih
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةِ اللَّهِ وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سُخْطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ انسان کی سعادت مندی اسی میں ہے کہ وہ اپنے بارے میں اللہ کی قضا و قدر پر راضی ہو ، انسان کی بدنصیبی ہے کہ وہ اللہ سے خیر طلب کرنا ترک کر دے اور انسان کی بدنصیبی ہے کہ وہ اپنے بارے میں اللہ کی قضا و قدر پر راضی نہ ہو ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 5304
sahih
عَن جَابر أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قبل نجد فَلَمَّا قَفَلَ مَعَهُ فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ فَنَزَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ وَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلتا. قَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ: اللَّهُ ثَلَاثًا وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجلسَ. مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نجد کی طرف جہاد کیا ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم واپس آئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس آئے ، صحابہ کرام کو گھنے خار دار درختوں کی وادی میں دوپہر کو نیند (قیلولہ) نے آ لیا ، چنانچہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (آرام کی غرض سے) یہاں پڑاؤ ڈالا اور صحابہ کرام درختوں کے سائے کی تلاش میں الگ الگ ہو گئے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیکر کے درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا اور اپنی تلوار اس (درخت) کے ساتھ لٹکا دی ، اور ہم تھوڑی دیر کے لیے سو گئے ، اچانک رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں بلانے لگے ، ہم نے دیکھا کہ ایک اعرابی آپ کے پاس ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس نے ، مجھ پر میری تلوار سونت لی جبکہ میں اس وقت آرام کر رہا تھا میں بیدار ہوا تو تلوار اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی ، اس نے کہا : تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے تین مرتبہ کہا :’’ اللہ (بچائے گا) ۔‘‘ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی کوئی سرزنش نہیں کی اور آپ بیٹھ گئے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 5305
sahih
وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيِّ فِي «صَحِيحِهِ» فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: «اللَّهُ» فَسَقَطَ السيفُ من يَده فَأخذ السَّيْفَ فَقَالَ: «مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟» فَقَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ. فَقَالَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ» . قَالَ: لَا وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَأَتَى أَصْحَابَهُ فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. هَكَذَا فِي «كتاب الْحميدِي» و «الرياض»
Urdu

اور ابوبکر اسماعیلی نے اپنی صحیح میں یوں روایت کی ہے ، اس نے کہا : تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ ! تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تلوار پکڑ کر فرمایا :’’ تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : آپ بہتر پکڑنے والے ہیں (یعنی معاف کر دیں) ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟‘‘ اس نے کہا : نہیں ، لیکن میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ عہد کرتا ہوں کہ میں آپ سے نہ تو قتال کروں گا اور نہ آپ سے قتال کرنے والوں کا ساتھ دوں گا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا راستہ چھوڑ دیا (اسے جانے دیا) ، وہ (اعرابی) اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا : میں بہترین شخص کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں ۔ کتاب الحمیدی اور ریاض الصالحین میں اسی طرح ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ النووی فی ریاض الصالحین و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔

Hadith 5306
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ آيَةً لَو أخَذ النَّاسُ بهَا لكفتهم: (من يتق الله يَجْعَل لَهُ مخرجاويرزقه من حيثُ لَا يحتسبُ) رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه والدارمي
Urdu

ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اس پر عمل کریں تو وہ ان کے لیے کافی ہو جائے :’’ جو شخص اللہ سے ڈر جائے تو وہ اس کے لیے (تمام مشکلات سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق فراہم کرے جس کے بارے میں اسے وہم و گمان بھی نہ تھا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 5307
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حسن صَحِيح
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ آیت سکھائی :’’ بے شک میں ہی رزق عطا کرنے والا ، قوت و طاقت والا ہوں ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

Hadith 5308
sahih
وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ فَشَكا المحترف أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث صَحِيح غَرِيب
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں دو بھائی تھے ، ان میں سے ایک نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا جبکہ دوسرا کاروبار کیا کرتا تھا ، کاروبار کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کی ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شاید کے تمہیں اسی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5309
sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ قَلْبَ ابْنِ آدَمَ بِكُلِّ وَادٍ شُعْبَةٌ فَمَنْ أَتْبَعَ قَلْبَهُ الشُّعَبَ كُلَّهَا لَمْ يُبَالِ اللَّهُ بِأَيِّ وَادٍ أَهْلَكَهُ وَمَنْ تَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ كَفَاهُ الشّعب» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک انسان کے دل کا ہر وادی میں حصہ ہے ، جو شخص اپنے دل کو تمام حصوں کے پیچھے لگاتا ہے تو اللہ کو اس کی پرواہ نہیں خواہ وہ اسے کسی بھی وادی میں ہلاک کر دے ، اور جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو وہ تمام حصوں سے کفایت کر جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 5310
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْ أَنَّ عَبِيدِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ وَلَمْ أُسْمِعْهُمْ صَوْتَ الرَّعدِ . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے رب عزوجل نے فرمایا : اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں رات کے وقت ان پر بارش برساؤں اور دن کے وقت ان پر سورج نکالوں اور انہیں گرج کی آواز بھی نہ سناؤں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 5311
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إِلَى الْبَرِيَّةِ فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَوَضَعَتْهَا وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ ثُمَّ قَالَتْ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلَأَتْ. قَالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا. قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ قَالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتِ امْرَأَتُهُ: نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا وَقَامَ إِلَى الرَّحَى فَذُكِرَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدور إِلَى يَوْم الْقِيَامَة» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی اپنے اہل و عیال کے پاس گیا ، جب اس نے ان کی (بھوک کی) ضرورت دیکھی تو وہ (عجز و انکساری کرنے کے لیے) صحرا کی طرف چلا گیا ، جب اس کی اہلیہ نے دیکھا تو وہ چکی کی طرف گئی تو اسے درست کیا اور تندور کی طرف گئی اور اسے جلایا ، پھر اس عورت نے دعا کی ، اے اللہ ! ہمیں رزق عطا فرما ، اس نے دیکھا کہ اچانک ٹب (آٹے سے) بھر چکا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، وہ تندور کی طرف گئی تو اسے بھی (روٹیوں سے) بھرا ہوا پایا ، راوی بیان کرتے ہیں ، شوہر واپس آیا تو اس نے کہا ، کیا میرے بعد تمہیں کوئی چیز ملی ہے ؟ اہلیہ نے کہا : جی ہاں ! ہمارے رب کی طرف سے ، وہ چکی کی طرف گیا (تا کہ اسے دیکھے) نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر وہ اس (چکی کے پاٹ) کو نہ اٹھاتا تو وہ روز قیامت تک چلتی رہتی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 5312
sahih
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرِّزْقَ لَيَطْلُبُ الْعَبْدَ كَمَا يَطْلُبُهُ أَجَلُهُ» . رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي «الْحِلْية»
Urdu

ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یقیناً رزق بندے کو اس طرح تلاش کرتا ہے جس طرح اس کی موت اسے تلاش کرتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابونعیم فی حلیہ الاولیاء ۔

Hadith 5313
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، گویا میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ انبیا ؑ میں سے ایک نبی کا واقعہ بیان کر رہے ہیں ، ان کی قوم نے انہیں مارا اور لہولہان کر دیا اور وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں ، اے اللہ ! میری قوم کی مغفرت فرما ، کیونکہ وہ شعور نہیں رکھتے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 5314
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا ينظر إِلَى صوركُمْ وَلَا أموالِكم وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یقیناً اللہ تمہاری صورتوں اور اموال کو نہیں دیکھتا ، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔