عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مہاجر فقرا ، روز قیامت مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص سے فرمایا :’’ اس (شخص) کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟‘‘ اس نے کہا : معزز لوگوں میں سے ہے ، اللہ کی قسم ! یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجے تو اس کی شادی کر دی جائے ، اور اگر کہیں سفارش کرے تو وہ قبول کی جائے ، راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے ، پھر ایک آدمی گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ اس شخص کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ شخص غریب مسلمانوں میں سے ہے ، یہ اس لائق ہے کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجے تو اس کی شادی نہ کی جائے اور اگر کہیں سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر بات کرے تو اس کی بات نہ سنی جائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ (تنہا) شخص اس شخص جیسے لوگوں سے بھری زمین سے بہتر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو دن متواتر جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ۔ متفق علیہ ۔
سعید مقبری ؒ ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے ان کے سامنے بھنی ہوئی بکری تھی ، انہوں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ نے پیٹ بھر کر جو کی روٹی نہیں کھائی ۔ رواہ البخاری ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ جو کی روٹی اور رنگت بدلی ہوئی چربی لے کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے پاس گروی تھی ، آپ نے اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جَو لیے تھے ، اور میں (راوی) نے انسؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا : آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں شام کے وقت نہ ایک صاع گندم ہوتی تھی اور نہ ایک صاع کوئی اور اناج ہوتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں ۔ رواہ البخاری ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کھجور کی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور آپ نے کوئی بستر وغیرہ نہیں بچھایا ہوا تھا ، اور اس چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر تھے ، اور آپ نے چمڑے کے تکیے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی ، جس میں کھجور کے درخت کے پتے بھرے ہوئے تھے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کے حضور دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی امت پر فراخی فرمائے ، کیونکہ فارسیوں اور رومیوں پر بہت نوازشات ہیں ، حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابن خطاب ! کیا تم ابھی تک اسی مقام پر ہو ؟ یہ (کفار) وہ لوگ ہیں کہ انہیں ان کی لذتیں اس دنیا کی زندگی میں جلد عطا کر دی گئی ہیں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ کیا تم خوش نہیں کہ ان کے لیے دنیا میں ہوں اور ہمارے لیے آخرت میں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میری ستر اصحاب صفہ سے ملاقات ہوئی ہے ، ان میں سے کسی ایک آدمی پر بھی بڑی چادر نہیں تھی ، ان کے پاس یا تو ایک ایک تہبند تھا یا ایک چادر تھی ، انہوں نے اس کے کنارے کو گردنوں کے ساتھ باندھ رکھا تھا ، ان میں سے کچھ چادریں ایسی تھیں جو نصف پنڈلیوں تک پہنچتی تھیں کچھ کی ٹخنوں تک پہنچتی تھیں ، اور وہ اسے اپنے ہاتھ کے ساتھ اکٹھا کرتا تھا کہ کہیں اس کا ستر نہ کھل جائے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مال اور صورت و جمال میں اپنے سے بہتر شخص کو دیکھے تو وہ اپنے سے کم تر شخص کو دیکھ لے ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ (دنیوی امور میں) اپنے سے کم تر شخص کو دیکھو اور اپنے سے بہتر شخص کو نہ دیکھو ، کیونکہ یہ زیادہ لائق ہے کہ تم اللہ کی ان نعمتوں کو حقیر نہ جانو جو اس نے تم پر انعام کی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ فقرا مال داروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے جو کہ آدھا دن ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! مجھے مسکین زندہ رکھنا ، مسکین ہی فوت کرنا اور مجھے مساکین کے گروہ میں جمع فرمانا ۔‘‘ عائشہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیونکہ وہ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے ، عائشہ ! کسی مسکین کو خالی ہاتھ نہ موڑنا خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہو ، عائشہ ! مساکین سے محبت کرنا ، انہیں قریب رکھنا چنانچہ روز قیامت اللہ تجھے (اپنے) قریب کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
اور ابن ماجہ نے ابو سعید ؓ سے ’’مساکین کے گروہ میں اٹھا‘‘ تک روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابودرداء ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اپنے ضعیفوں میں تلاش کرو ، تم اپنے ان کمزوروں ہی کی وجہ سے رزق دیے جاتے یا مدد کیے جاتے ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
امیہ بن خالد بن عبداللہ بن اسید ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ مہاجر فقرا کی دعاؤں کے ذریعے فتح طلب کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی فاجر شخص کو نعمتوں میں دیکھ کر اس پر رشک نہ کرنا کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس کی موت کے بعد اس کے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے ، اس کے لیے اللہ کے ہاں ایک مہلک چیز ہے جو مرے گی نہیں ۔‘‘ یعنی : جہنم ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور قحط ہے ، جب وہ دنیا سے جدا ہوتا ہے تو وہ قید خانے اور قحط سے جدا ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
قتادہ بن نعمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ کسی بندے کو پسند فرماتا ہے تو اسے دنیا (کے مال و منصب) سے بچا لیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے مریض کو پانی سے بچاتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو چیزیں ہیں جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے ، انسان موت کو ناپسند کرتا ہے ، حالانکہ موت مومنوں کے لیے فتنے سے بہتر ہے ، اور وہ قلت مال کو ناپسند کرتا ہے جبکہ قلت مال کا حساب کم ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا ، میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دیکھ لو تم کیا کہہ رہے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، اس نے تین مرتبہ کہا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم (اپنے دعویٰ میں) سچے ہو تو پھر فقر و فاقہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈھال تیار رکھو کیونکہ جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے تو اس کی طرف فقر سیلاب کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے آتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اللہ کی راہ میں جتنا ڈرایا گیا ہے اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا ، اللہ کی راہ میں جتنی مجھے اذیت دی گئی ہے اتنی کسی کو اذیت نہیں دی گئی ، مجھ پر تیس دن رات بھی گزرے ہیں کہ میرے اور بلال ؓ کے لیے ایسی کوئی چیز نہیں تھی جسے کوئی جاندار کھاتا ہے ، البتہ اتنی (قلیل) چیز تھی جسے بلال ؓ کی بغل چھپا لیتی تھی ۔‘‘ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے بھاگ نکلے تھے تو بلال ؓ آپ کے ساتھ تھے ، اور بلال ؓ کے پاس بس اتنا سا کھانا تھا جو وہ اپنی بغل کے نیچے رکھتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی اور ہم نے اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر ایک پتھر بندھا ہوا دکھایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے دکھائے ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔