عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو میں اور میری والدہ (اپنے مکان کے) کسی حصہ کی لپائی کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عبداللہ ! کیا ہو رہا ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، ہم (مکان کے کسی) حصہ کی مرمت کر رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ معاملہ (موت) اس سے زیادہ تیز ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی پیشاب کرتے تو مٹی سے تیمم کرتے ، میں عرض کرتا ، اللہ کے رسول ! پانی تو آپ کے قریب ہی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ مجھے کیا پتہ شاید کہ میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں ۔‘‘ شرح السنہ ، اور ابن جوزی نے کتاب ’’الوفاء‘‘ میں اسے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنی گدی کے پاس رکھا ، پھر کھولا تو فرمایا :’’ اور وہاں اس کی آرزوئیں ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سامنے ایک لکڑی گاڑی ، ایک اس کے پہلو میں اور ایک اس کے دور گاڑی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ انسان ہے اور یہ اجل ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ آرزوئیں ہیں ، وہ آرزوئیں حاصل کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے تو اس کی آرزو کے پورا ہونے سے پہلے اسے موت آ جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کی عمر ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہیں ، اور اس (ساٹھ ، ستر) سے تجاوز کرنے والے ان میں سے کم ہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔ اور عبداللہ بن شخیر سے مروی حدیث باب عیادۃ المریض میں ذکر ہو چکی ہے ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس امت کی پہلی صلاح (آخرت کا) یقین اور دنیا سے بے رغبتی ہے ، جبکہ اس کا اول فساد بخل اور (لامحدود) آرزوئیں ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
سفیان ثوری ؒ نے فرمایا :’’ موٹا ، جھوٹا کپڑا پہننے اور روکھا سوکھا کھانے کا نام دنیا سے بے رغبتی نہیں ، بلکہ آرزوؤں کا کم ہونا دنیا سے بے رغبتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
زید بن حسین ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے امام مالک ؒ سے سنا ، ان سے دریافت کیا گیا ، دنیا سے بے رغبتی سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا : حلال کمائی اور امیدوں کا کم ہونا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ ایسے مالدار کو پسند فرماتا ہے جو پرہیزگار ، گم نام ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ابن عمر ؓ سے مروی حدیث :’’ حسد صرف دو آدمیوں پر ہے ‘‘ باب فضائل القرآن میں بیان ہو چکی ہے ۔
ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کون سا آدمی بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس کی عمر دراز ہو اور اس کا عمل اچھا (یعنی قرآن و سنت کے مطابق) ہو ۔‘‘ اس شخص نے عرض کیا ، سب سے برا شخص کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس کی عمر دراز ہو اور اس کا عمل برا ہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الدارمی ۔
عبید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، ان میں سے ایک اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا ، پھر دوسرا اس کے تقریباً ایک ہفتے بعد فوت ہو گیا ، صحابہ ؓ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اس کے لیے کیا دعا کی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اس کی مغفرت فرمائے ، اس پر رحم فرمائے اور اسے اس کے ساتھی سے ملائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کی وہ نمازیں جو اس نے اس کی نمازوں کے بعد پڑھیں وہ کہاں گئیں ؟ اور اس نے اس کے بعد جو عمل کیے وہ کہاں گئے ؟‘‘ یا فرمایا :’’ اس نے اس کے بعد جو روزے رکھے تو وہ کہاں گئے ؟‘‘ ان دونوں کے مابین تو زمین و آسمان کے مابین فاصلے سے زیادہ فاصلہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تین خصلتیں ہیں ، میں ان پر قسم اٹھاتا ہوں اور میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں ، تم اسے یاد کر لو ، وہ چیزیں جن پر میں قسم اٹھاتا ہوں یہ ہیں : صدقہ کرنے سے بندے کا مال کم نہیں ہوتا ، جس بندے کی حق تلفی کی جائے اور وہ اس پر صبر کرے تو اس کے بدلے میں اللہ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے ، اور بندہ جب کسی سے سوال کرتا ہے تو اللہ اسے فقر میں مبتلا کر دیتا ہے ، رہی وہ بات جو میں تمہیں بتانے جا رہا ہوں اس کو خوب یاد رکھنا ۔‘‘ پس فرمایا :’’ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے : ایک وہ بندہ جسے اللہ نے مال اور علم عطا کیا ہو اور وہ اس (علم) کے بارے میں اپنے رب سے ڈرتا ہو ، صلہ رحمی کرتا ہو اور وہ اس (علم) کے مطابق اللہ کی خاطر عمل کرتا ہو ، یہ سب سے افضل درجہ ہے ۔ ایک وہ بندہ جسے اللہ نے علم دیا ہو لیکن اسے رزق نہ دیا ہو ، اور وہ نیت کا اچھا ہے ، وہ کہتا ہے : اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں (مالدار) شخص کی طرح خرچ کرتا ، ان دونوں کے لیے اجر برابر ہے ، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال عطا کیا لیکن علم نہیں دیا تو وہ علم کے بغیر اپنے مال کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے ، اور وہ نہ تو اپنے رب سے ڈرتا ہے اور نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اسے حق کے مطابق خرچ کرتا ہے ، یہ شخص انتہائی برے درجے پر ہے ، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال دیا نہ علم ، وہ کہتا ہے : اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں شخص کی طرح عمل (یعنی خرچ) کرتا ، وہ صرف نیت ہی کرتا ہے جبکہ دونوں کا گناہ برابر ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ سندہ ضعیف ، واہ الترمذی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے (اطاعت والے) کاموں پر لگا دیتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! وہ اسے کس طرح کام پر لگاتا ہے ؟ فرمایا :’’ موت سے پہلے اسے صالح عمل کرنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دانا شخص وہ ہے جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کیا اور موت کے بعد کے لیے عمل کیے ، اور کم عقل شخص وہ ہے جس نے اپنے نفس کو خواہش کے تابع کیا اور اللہ پر امید باندھ لی (کہ وہ غفور و رحیم) ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم ایک مجلس میں تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے سر پر پانی (یعنی غسل) کے اثرات تھے ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم آپ کو خوش طبع دیکھ رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ٹھیک ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر لوگوں نے مال داری کے متعلق غور و خوض کرنا شروع کر دیا (کیا وہ جائز ہے یا ناجائز ؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ عزوجل سے ڈرتا ہے اس کے لیے مال داری میں کوئی مضائقہ نہیں ، تقویٰ والے شخص کے لیے صحت مال داری سے بہتر ہے ، اور حقیقی خوشی نعمتوں میں سے ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد ۔
سفیان ثوری ؒ بیان کرتے ہیں ، ماضی میں مال ناپسندیدہ چیز تھی ، جبکہ آج وہ مومن کی ڈھال ہے ، اور فرمایا : اگر (ہمارے پاس) دینار نہ ہوتے تو یہ بادشاہ ہمیں بے وقعت سمجھتے ، اور فرمایا : جس شخص کے ہاتھ میں مال ہو وہ اسے کارآمد بنائے (ضائع نہ کرے) کیونکہ یہ ایسا دور ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہوا تو وہ پہلا شخص ہو گا جو (حصول دنیا کے لیے) اپنا دین بیچ ڈالے گا ، اور فرمایا : حلال فضول خرچی کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ضعیف مردود ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت منادی کرنے والا منادی کرے گا : ساٹھ سالے کہاں ہیں ؟‘‘ اور یہ (ساٹھ سال) وہ عمر ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ کیا ہم نے تمہیں عمر عطا نہیں کی تھی ، جس نے نصیحت پکڑنی تھی وہ نصیحت پکڑتا ، اور تمہارے پاس آگاہ کرنے والے بھی آئے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عبداللہ بن شداد ؓ بیان کرتے ہیں ، بنو عذرہ کے تین آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کون ہے جو ان کے (کھانے پینے کی) مجھ سے ذمہ داری اٹھا لے ؟‘‘ طلحہ ؓ نے عرض کیا : میں ، چنانچہ وہ (تینوں) انہیں کہ پاس تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا تو ان میں سے ایک اس لشکر کے ساتھ ہو گیا اور وہ شہید ہو گیا ، پھر آپ نے ایک لشکر روانہ کیا تو دوسرا شخص اس کے ساتھ گیا تو وہ بھی شہید ہو گیا ، پھر تیسرا شخص اپنے بستر پر فوت ہو گیا ، راوی بیان کرتے ہیں ، طلحہ ؓ نے فرمایا : میں نے (خواب میں) تینوں کو جنت میں دیکھا اور بستر پر وفات پانے والے کو ان کے آگے دیکھا ، جو بعد میں شہید ہوا تھا وہ اس کے ساتھ تھا جبکہ پہلے شہید ہونے والا شخص اس دوسرے (شہید) کے ساتھ تھا ، چنانچہ اس سے مجھے اشکال پیدا ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم کو اس سے کون سی چیز عجیب لگی ؟ اللہ کے ہاں اس مومن سے افضل کوئی شخص نہیں جسے اسلام میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر اور تہلیل ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ کہنے کے لیے طویل عمر دی جائے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
محمد بن ابی عمیرہ ؓ جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے ، ان سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : اگر بندہ اپنے یوم پیدائش سے لے کر بوڑھا ہو کر مرنے تک اللہ کی اطاعت میں سجدہ ریز رہے تو وہ روز قیامت اس کو بھی حقیر سمجھے گا اور وہ آرزو کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تا کہ وہ اجر و ثواب میں اضافہ کر سکے ۔‘‘ دونوں روایات کو امام احمد نے نقل کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد ۔