Back to Mishkat Al-Masabih

Things that soften the heart

کتاب الرقاق

Chapter 25

Hadith 5315
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ هُوَ لِلَّذِي عَمِلَهُ . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں (دوسرے) تمام شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں ، جو کوئی ایسا عمل کرے جس میں وہ میرے ساتھ میرے علاوہ کسی اور کو بھی شریک کرے تو میں اس کو اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے :’’ میں اس (عمل کرنے والے) سے بیزار ہوں ، وہ (عمل) اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے کیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5316
sahih
وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص شہرت کی خاطر کوئی عمل کرتا ہے تو (روز قیامت) اللہ اس شخص کو (لوگوں کے سامنے) ذلیل فرمائے گا (کہ اس نے اس نیت سے عمل کیا تھا) اور جو دکھلاوا کرتا ہے تو اللہ اسے (لوگوں کو) دکھلا دے گا (کہ یہ شخص ریا کار ہے) ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5317
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: يُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ: «تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا گیا ، آپ بتائیں ، ایک آدمی نیکی کا کام کرتا ہے ، اس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ، ایک دوسری روایت میں ہے ، اس پر لوگ اسے پسند کرتے ہیں ، (اس کا کیا حکم ہے ؟) آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ مومن کے لیے پیشگی بشارت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5318
sahih
عَن أبي سعدِ بن أبي فَضَالَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ: مَنْ كانَ أشركَ فِي عملٍ عملَه للَّهِ أحدا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ
Urdu

ابوسعید بن ابی فضالہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ لوگوں کو روز قیامت ، جس میں کوئی شک نہیں ، (حساب کے لیے) جمع فرمائے گا تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : جس نے کسی ایسے عمل میں ، جسے اس نے اکیلے اللہ کے لیے کیا تھا ، شریک بنایا تو وہ اپنا ثواب ، اللہ کے علاوہ کسی اور سے طلب کرے ، کیونکہ اللہ (دوسرے) تمام شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 5319
sahih
وَعَن عبد الله بن عَمْرو أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ أَسَامِعَ خَلْقِهِ وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص اپنے عمل کے متعلق لوگوں کو سناتا ہے تو اللہ اس کے متعلق اپنی مخلوق کے کانوں تک سنا دیتا ہے اور وہ اسے حقیر و ذلیل کر دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5320
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الْآخِرَةِ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الدُّنْيَا جَعَلَ اللَّهُ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَشَتَّتَ عَلَيْهِ أَمْرَهُ وَلَا يَأْتِيهِ مِنْهَا إِلاَّ مَا كُتِبَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَرَوَاهُ أَحْمد
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کی نیت طلب آخرت ہو تو اللہ اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے ، اور اس کے معاملے کو مجتمع فرما دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس چلی آتی ہے ، اور جس شخص کی نیت طلب دنیا ہو تو اللہ اس کی پیشانی پر فقر ثبت فرما دیتا ہے ، اس کے معاملے کو منتشر کر دیتا ہے اور دنیا اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اللہ نے اس کے لیے لکھ دی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5321
sahih
وَالدَّارِمِيُّ عَنْ أَبَانٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
Urdu

امام دارمی نے اسے ابان کی سند سے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 5322
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَا أَنَا فِي بَيْتِي فِي مُصَلَّايَ إِذْ دَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ فَأَعْجَبَنِي الْحَالُ الَّتِي رَآنِي عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَكَ أَجْرَانِ: أَجْرُ السِّرِّ وَأَجْرُ الْعَلَانِيَةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس اثنا میں کہ میں اپنے گھر میں اپنی جائے نماز پر ہوتا ہوں تو اچانک ایک آدمی میرے پاس آتا ہے مجھے وہ اپنی حالت اچھی لگتی ہے جس میں وہ مجھے دیکھتا ہے ، (کیا یہ بھی ریا کاری ہے ؟) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! اللہ تم پر رحم فرمائے ، تمہارے لیے دگنا اجر ہے ، پوشیدہ کا اجر اور ظاہر کا اجر ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5323
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الذِّئَابِ يَقُولُ اللَّهُ: «أَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عليَّ يجترؤون؟ فَبِي حَلَفْتُ لَأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تدع الْحَلِيم فيهم حيران» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے بدلے میں دنیا طلب کریں گے ، وہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بکری کی کھال پہنیں گے ، ان کی زبانیں (یعنی گفتگو) چینی سے زیادہ میٹھی ہو گی ، اور ان کے دل بھیڑیوں کے دلوں جیسے ہوں گے ، اللہ فرماتا ہے ، وہ دھوکے میں مبتلا ہیں (کہ میں انہیں مہلت دے رہا ہوں) یا وہ میرے خلاف جرأت کرتے ہیں ، میں اپنی قسم اٹھاتا ہوں کہ میں ایسے لوگوں پر انہی میں سے ایک فتنہ برپا کروں گا کہ وہ ان کے حلیم و بردبار شخص کو بھی حیران چھوڑ دے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5324
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: لَقَدْ خَلَقْتُ خَلْقًا أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبْرِ فَبِي حَلَفْتُ لَأُتِيحَنَّهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ فِيهِمْ حَيْرَانَ فَبِي يغترّون أم عليَّ يجترؤونَ؟ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيب
Urdu

ابن عمر ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :’’ میں نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی زبانیں چینی سے زیادہ شیریں اور ان کے دل ایلوے سے زیادہ کڑوے ہیں ، میں اپنی ذات کی قسم اٹھاتا ہوں ! میں انہیں ایک فتنے میں مبتلا کروں گا کہ وہ ان کے حلیم (عقل مند و بردبار) شخص کو بھی حیران چھوڑ دے گا ، کیا وہ میری وجہ سے دھوکے میں مبتلا ہوئے ہیں یا میرے خلاف جرأت کرتے ہیں ؟‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5325
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَإِنْ صَاحِبُهَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوهُ وَإِنْ أُشِيرَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فَلَا تعدوه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک ہر چیز کے لیے رغبت و نشاط ہوتی ہے اور ہر رغبت و نشاط کے لیے ضعف و سستی بھی ہوتی ہے ، اگر اس رغبت رکھنے والے نے میانہ روی رکھی اور افراط سے احتراز کیا تو اس کی (کامیابی کی) امید رکھو اور اگر اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں (اس کی مشہوری ہو جائے) تو اسے شمار نہ کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5326
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بِحَسب امريءٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فِي دِينٍ أَوْ دُنْيَا إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
Urdu

انس ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے لیے یہی شر کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے معاملے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں (اس کی شہرت ہو جائے) مگر وہ شخص جسے اللہ محفوظ رکھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5327
sahih
عَن أبي تَمِيمَة قَالَ: شَهِدْتُ صَفْوَانَ وَأَصْحَابَهُ وَجُنْدَبٌ يُوصِيهِمْ فَقَالُوا: هَلْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ سَمَّعَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ فَمن اسْتَطَاعَ أَن لَا يَأْكُل إِلا طيبا فَلْيَفْعَلْ وَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ أَهَرَاقَهُ فَلْيفْعَل. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوتمیمہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں صفوان ؒ اور ان کے ساتھیوں کے پاس موجود تھا اور جندب ؓ انہیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے ، انہوں نے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص شہرت کی خاطر کوئی عمل کرتا ہے تو روز قیامت اللہ اس کو رسوا کرے گا (کہ یہ اس نیت سے عمل کرتا تھا) اور جو اپنی جان کو مشقت میں ڈالتا ہے تو اللہ روز قیامت اسے مشقت میں مبتلا کر دے گا ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہمیں وصیت فرمائیں : انہوں نے فرمایا : انسان کے جسم سے اس کا پیٹ سب سے پہلے خراب ہوتا ہے ، لہذا جو شخص استطاعت رکھتا ہو کہ وہ صرف حلال ہی کھائے گا تو اسے ایسے ہی کرنا چاہیے ، اور جو شخص استطاعت رکھے کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک چلو خون ، جو اس نے ناجائز بہایا ہو وہ حائل نہ ہو تو وہ ضرور ناجائز خون بہانے سے بچے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 5328
sahih
وَعَن عمر بن الْخطاب أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ وَمَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْأَبْرَارَ الْأَتْقِيَاءَ الْأَخْفِيَاءَ الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُتَفَقَّدُوا وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُقَرَّبُوا قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
Urdu

عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مسجد کی طرف آئے تو انہوں نے معاذ بن جبل ؓ کو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قبر کے پاس روتا ہوا دیکھ کر ان سے پوچھا : تمہیں کون سی چیز رلا رہی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے وہ چیز رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ معمولی سی ریا کاری بھی شرک ہے ، اور جس شخص نے میرے کسی دوست سے دشمنی رکھی تو وہ شخص اللہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے میدان میں اتر آیا ، بے شک اللہ ایسے نیک ، متقی اور گم نام لوگوں کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیا جاتا ہو اور اگر موجود ہوں تو انہیں مدعو نہیں کیا جاتا اور نہ انہیں قریب کیا جاتا ہے ۔ ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں ، وہ ہر قسم کے گرد و غبار سے دور ہیں ۔‘‘ (کسی فتنے کا شکار نہیں ہوتے) اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5329
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فِي الْعَلَانِيَةِ فَأَحْسَنَ وَصَلَّى فِي السِّرِّ فَأَحْسَنَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: هَذَا عَبْدِي حَقًّا . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک بندہ جب علانیہ نماز پڑھتا ہے تو اچھے طریقے سے پڑھتا ہے اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تو بھی اچھے طریقے سے پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہ میرا بندہ مخلص ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 5330
sahih
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ» . فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ. قَالَ: «ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ من بعض»
Urdu

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ آخری دور میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے کہ وہ ظاہری طور پر دوست ہوں گے جبکہ باطنی طور پر دشمن ہوں گے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! یہ کس طرح ہو گا ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ ایک دوسرے سے رغبت (یعنی مفاد) اور ایک دوسرے سے خوف (یعنی نقصان) کے پیش نظر ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 5331
sahih
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ» رَوَاهُمَا أَحْمد
Urdu

شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص دکھلاوے کی خاطر نماز پڑھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، جو شخص دکھلاوے کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس نے شرک کیا ، اور جو شخص دکھلاوے کی خاطر صدقہ کرتا ہے تو اس نے شرک کیا ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 5332
sahih
وَعَنْهُ أَنَّهُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: شَيْءٌ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرْتُهُ فَأَبْكَانِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: «أَتَخوَّفُ على أمتِي الشِّرْكِ وَالشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ» قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا وَلَكِنْ يُرَاؤُونَ بِأَعْمَالِهِمْ. وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضَ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكَ صَوْمَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
Urdu

شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ وہ رونے لگے ، ان سے پوچھا گیا ، تمہیں کون سی چیز رلا رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ چیز جو میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زبانی سنی ، میں نے اسے یاد کیا تو اس نے مجھے رلا دیا ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مجھے اپنی امت کے بارے میں شرک اور مخفی خواہش کا اندیشہ ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتا ہے ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ کے بعد آپ کی امت شرک کرے گی ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، البتہ وہ سورج کی چاند کی پوجا نہیں کریں گے اور نہ ہی پتھر و صنم کی ، بلکہ وہ اپنے اعمال کا دکھلاوا کریں گے ، اور مخفی خواہش یہ ہے کہ ان میں سے کوئی روزے کی حالت میں صبح کرے گا ، لیکن اس کی خواہشات میں سے کوئی خواہش اس کے سامنے آ جائے گی تو وہ اپنا روزہ توڑ دے گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5333
sahih
وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ؟» فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «الشِّرْكُ الْخَفِيُّ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ فَيُصَلِّيَ فَيَزِيدَ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رجلٍ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم مسیح دجال کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق نہ بتاؤں جس کا مجھے ، تمہارے متعلق ، مسیح دجال سے بھی زیادہ اندیشہ ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شرک خفی ، وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص مجھے دیکھ رہا ہے تو وہ (اسے دکھانے کے لیے) اپنی نماز لمبی کر دیتا ہے (آہستہ آہستہ لمبی قراءت کے ساتھ زیادہ وقت لگاتا ہے) ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 5334
sahih
وَعَن مَحْمُود بن لبيد أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ» قالول: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ؟ قَالَ: «الرِّيَاءُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» : يَقُولُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ يُجَازِي الْعِبَادَ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فِي الدُّنْيَا فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً وَخَيْرًا؟
Urdu

محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے تمہارے متعلق شرک اصغر کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! شرک اصغر سے کیا مراد ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ریا کاری ۔‘‘ اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ جس روز اللہ بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا تو وہ ان (ریاکاروں) کو فرمائے گا : انہی کی طرف چلے جاؤ جن کو تم دنیا میں (اپنے اعمال) دکھایا کرتے تھے ، دیکھو کیا تم ان کے پاس جزا اور خیر و بھلائی پاتے ہو ؟‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔