ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی حد سے تجاوز کر دینے والی تونگری کا انتظار کرتا ہے ، یا (عبادت و اطاعت سے) بھلا دینے والی محتاجی کا انتظار کرتا ہے ، یا خراب کر دینے والے مرض کا ، یا بے ہودہ گوئی کرانے والے بڑھاپے کا ، یا اچانک آ جانے والی موت کا ، یا دجال کا ، دجال تو پوشیدہ فتنہ ہے جس کا انتظار ہے ، یا قیامت کا اور قیامت بڑی آفت اور ناگوار چیز ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہیں ، ہاں ! البتہ اللہ کا ذکر ، اللہ کے پسندیدہ اعمال اور عالم و متعلم اس سے مستثنیٰ ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر دنیا (کی اہمیت) اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے پانی کا گھونٹ بھی نہ پلاتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جاگیریں مت بناؤ ورنہ تم دنیا میں منہمک ہو جاؤ گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے دنیا کو پسند کیا ، اس نے آخرت کا نقصان کیا اور جس نے آخرت کو پسند کیا تو اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا ، تم باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ درہم و دینار کا بندہ ملعون ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو بھوکے بھیڑیے ، جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑا جائے تو وہ ان کے لیے اتنا نقصان دہ نہیں جتنی آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کے لیے نقصان دہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
خباب ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن جو بھی خرچ کرتا ہے تو اس پر اسے اجر ملتا ہے لیکن اس نے جو خرچ اس مٹی پر (زائد از ضرورت) کیا اس پر اسے اجر نہیں ملتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سارا خرچہ اللہ کی راہ میں سوائے تعمیرات کے ، اس (پر خرچ کرنے) میں کوئی خیر نہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز باہر تشریف لائے اور ہم آپ کے ساتھ تھے ، آپ نے ایک اونچا سا قبہ دیکھا تو فرمایا :’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ آپ کے صحابہ نے عرض کیا ، یہ ایک انصاری شخص کا ہے ، آپ خاموش ہو گئے اور اسے اپنے دل میں رکھا حتیٰ کہ جب اس کا مالک آیا تو اس نے لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا ، لیکن آپ نے اس سے اعراض کیا ، اس نے کئی مرتبہ ایسے کیا ، حتیٰ کہ اس آدمی نے آپ میں ناراضی اور اپنے سے بے رخی پہچان لی ، اس نے اپنے ساتھیوں سے وجہ دریافت کی اور کہا : اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناراض محسوس کرتا ہوں لیکن وجہ ناراضی معلوم نہیں ، انہوں نے بتایا ، آپ باہر تشریف لائے تھے اور آپ نے تمہارا قبہ دیکھا تھا ، وہ آدمی اپنے قبے کی طرف گیا اور اسے گرا کر زمین کے برابر کر دیا ، پھر ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ نے اس (قبے) کو نہ دیکھا تو فرمایا :’’ قبے کو کیا ہوا ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اس کے مالک نے آپ کی بے رخی کی ہم سے وجہ دریافت کی تو ہم نے اسے بتا دیا ، پس اس نے اسے گرا دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! ہر عمارت جس کے بغیر گزارہ ہو سکتا ہو وہ اپنے مالک کے لیے وبال ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہاشم بن عتبہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا :’’ تمہارے لیے اتنا مال جمع کرنا ہی کافی ہے کہ ایک خادم ہو اور اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) ایک سواری ہو ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، اور مصابیح کے بعض نسخوں میں ابوہاشم بن عتبد یعنی تاء کے بجائے دال کا ذکر ہے ، اور یہ تصحیف ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و نسائی و ابن ماجہ و مصابیح السنہ ۔
عثمان ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انسان کو ان تین چیزوں ، رہائش کے لیے گھر ، ستر ڈھانپنے کے لیے کپڑے اور روٹی پانی کے سوا کسی چیز کا حق نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے ایسا عمل بتائیں جب میں وہ عمل کر لوں تو میں اللہ اور لوگوں کا محبوب بن جاؤں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا سے بے رغبت ہو جا اللہ تجھ سے محبت کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے رغبت ہو جا تو لوگ تجھ سے محبت کریں گے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چٹائی پر سو گئے جب اٹھے تو آپ کے جسد اطہر پر اس (چٹائی) کے نشانات تھے ، ابن مسعود ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اگر آپ ہمیں حکم فرمائیں تو ہم آپ کے لیے نرم بستر تیار کر دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرا دنیا سے کیا سروکار ، میں اور دنیا تو ایسے ہیں جیسے کوئی سوار کسی درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے رکتا ہے اور پھر کوچ کر جاتا ہے اور اسے وہیں چھوڑ جاتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوامامہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے دوستوں میں سے وہ مومن میرے نزدیک زیادہ قابل رشک ہے جس کے پاس سازو سامان کم ہو ، نماز میں اسے لذت حاصل ہوتی ہو ، اپنے رب کی عبادت خوب اچھی طرح کرتا ہو اور وہ پوشیدہ حالت میں بھی اس کی اطاعت کرتا ہو ، لوگوں میں مشہور نہ ہو ، اس کی طرف انگلیاں نہ اٹھتی ہوں ، اس کا رزق گزارہ لائق ہو اور وہ اس پر صابر ہو ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چٹکی بجائی اور فرمایا :’’ اس کی موت جلدی آ گئی ، اسے رونے والیاں کم ہیں اور اس کی میراث بھی کم ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے رب نے مجھے پیش کش کی کہ وہ مکہ کی وادی بطحا (یا مکہ کے سنگ ریزوں) کو سونا بنا دے ، میں نے کہا : رب جی ! نہیں ، بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میں ایک روز شکم سیر ہوں اور ایک روز بھوکا رہوں ، جب میں بھوکا رہوں تو تیرے حضور عاجزی کروں اور تیرا ذکر کروں ، اور جب شکم سیر ہوں تو تیری حمد بیان کروں اور تیرا شکر ادا کروں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ احمد و الترمذی ۔
عبید اللہ بن محصن ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ اسے اپنے اہل و عیال کے متعلق کوئی خطرہ نہ ہو اور وہ تندرست ہو ، اور اس کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو تو گویا اس کے لیے تمام اطراف سے دنیا جمع کر دی گئی ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
مقدام بن معدیکرب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کسی آدمی نے ایسا کوئی برتن نہیں بھرا جو اس کے پیٹ سے زیادہ برا ہو ، انسان کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھ سکیں ، اگر زیادہ کھانا ضروری ہی ہو تو پھر (پیٹ کا) تہائی حصہ کھانے کے لیے ، تہائی پانی کے لیے اور تہائی سانس کے لیے ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو ڈکار لیتے ہوئے سنا تو فرمایا :’’ اپنا ڈکار کم کر ، کیونکہ روز قیامت وہ شخص لوگوں سے بہت دیر تک بھوکا رہے گا جو دنیا میں خوب سیر ہو کر کھاتا تھا ۔‘‘ شرح السنہ ، اور امام ترمذی نے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و الترمذی ۔
کعب بن عیاض ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ہر امت کے لیے ایک فتنہ (آزمائش و امتحان) رہا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔