Back to Mishkat Al-Masabih

Things that soften the heart

کتاب الرقاق

Chapter 25

Hadith 5375
sahih
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ بَدَأَ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً ثُمَّ مُلْكًا عَضُوضًا ثُمَّ كَانَ جَبْرِيَّةً وَعُتُوًّا وَفَسَادًا فِي الْأَرْضِ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْفُرُوجَ وَالْخُمُورَ يُرْزَقُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُنْصَرُونَ حَتَّى يَلْقَوُا اللَّهَ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
Urdu

ابو عبیدہ اور معاذ بن جبل ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس دین کا آغاز نبوت و رحمت سے ہوا ، پھر خلافت و رحمت ہو گی ، پھر ظالم بادشاہ ہوں گے ، پھر زمین میں جبر ، زیادتی اور فساد ہو گا ، وہ ریشم ، شرم گاہوں (زنا) اور شراب کو حلال سمجھیں گے ، انہیں اسی حالت پر رزق دیا جائے گا اور ان کی مدد کی جاتی رہے گی حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5376
sahih
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ بَدَأَ نُبُوَّةً وَرَحْمَةً ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً ثُمَّ مُلْكًا عَضُوضًا ثُمَّ كَانَ جَبْرِيَّةً وَعُتُوًّا وَفَسَادًا فِي الْأَرْضِ يَسْتَحِلُّونَ الْحَرِيرَ وَالْفُرُوجَ وَالْخُمُورَ يُرْزَقُونَ عَلَى ذَلِكَ وَيُنْصَرُونَ حَتَّى يَلْقَوُا اللَّهَ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
Urdu

ابو عبیدہ اور معاذ بن جبل ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس دین کا آغاز نبوت و رحمت سے ہوا ، پھر خلافت و رحمت ہو گی ، پھر ظالم بادشاہ ہوں گے ، پھر زمین میں جبر ، زیادتی اور فساد ہو گا ، وہ ریشم ، شرم گاہوں (زنا) اور شراب کو حلال سمجھیں گے ، انہیں اسی حالت پر رزق دیا جائے گا اور ان کی مدد کی جاتی رہے گی حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5377
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ - قَالَ زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الرَّاوِيُّ: يَعْنِي الْإِسْلَامَ - كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ يَعْنِي الْخَمْرَ. قِيلَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ فِيهَا مابين؟ قَالَ: «يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا فَيَسْتَحِلُّونَهَا» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک سب سے پہلے الٹا دیا جائے گا ، زید بن یحیی راوی نے بیان کیا ، یعنی اسلام ، جیسے برتن الٹا دیا جاتا ہے ، یعنی شراب ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اللہ نے اس کے متعلق تو وضاحت فرما دی ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : وہ اس کا نام بدل لیں گے اور پھر اسے حلال جانیں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارمی ۔

Hadith 5378
sahih
عَن النُّعْمَان بن بشير عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَّةٍ» ثُمَّ سَكَتَ قَالَ حَبِيبٌ: فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أُذَكِّرُهُ إِيَّاهُ وَقُلْتُ: أَرْجُو أَنْ تَكُونَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ فَسُرَّ بِهِ وَأَعْجَبَهُ يَعْنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»
Urdu

نعمان بن بشیر ، حذیفہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تک اللہ چاہے گا تم میں نبوت (کے اثرات) باقی رکھے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا ، پھر جب تک اللہ چاہے گا ، خلافت نبوت کے انداز پر ہو گی ، پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا ، پھر جس قدر اللہ چاہے گا کاٹنے والے بادشاہ ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا ، پھر جبریہ بادشاہت ہو گی اور یہ بھی جب تک اللہ چاہے گا رہے گی ، پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا ، پھر خلافت نبوت کی طرز پر ہو گی ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے ۔ حبیب بیان کرتے ہیں ، جب عمر بن عبد العزیز ؒ نے خلافت سنبھالی تو میں نے ان کی یاد دہانی کے لیے انہیں یہ حدیث لکھی ، اور کہا : میں امید کرتا ہوں کہ ظالم بادشاہ اور جبریہ بادشاہت کے بعد آپ امیر المومنین ہیں ۔ وہ اس سے خوش ہوئے اور انہیں اچھا لگا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔