ابو عبیدہ اور معاذ بن جبل ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس دین کا آغاز نبوت و رحمت سے ہوا ، پھر خلافت و رحمت ہو گی ، پھر ظالم بادشاہ ہوں گے ، پھر زمین میں جبر ، زیادتی اور فساد ہو گا ، وہ ریشم ، شرم گاہوں (زنا) اور شراب کو حلال سمجھیں گے ، انہیں اسی حالت پر رزق دیا جائے گا اور ان کی مدد کی جاتی رہے گی حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابو عبیدہ اور معاذ بن جبل ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس دین کا آغاز نبوت و رحمت سے ہوا ، پھر خلافت و رحمت ہو گی ، پھر ظالم بادشاہ ہوں گے ، پھر زمین میں جبر ، زیادتی اور فساد ہو گا ، وہ ریشم ، شرم گاہوں (زنا) اور شراب کو حلال سمجھیں گے ، انہیں اسی حالت پر رزق دیا جائے گا اور ان کی مدد کی جاتی رہے گی حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک سب سے پہلے الٹا دیا جائے گا ، زید بن یحیی راوی نے بیان کیا ، یعنی اسلام ، جیسے برتن الٹا دیا جاتا ہے ، یعنی شراب ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اللہ نے اس کے متعلق تو وضاحت فرما دی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ اس کا نام بدل لیں گے اور پھر اسے حلال جانیں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارمی ۔
نعمان بن بشیر ، حذیفہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تک اللہ چاہے گا تم میں نبوت (کے اثرات) باقی رکھے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا ، پھر جب تک اللہ چاہے گا ، خلافت نبوت کے انداز پر ہو گی ، پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا ، پھر جس قدر اللہ چاہے گا کاٹنے والے بادشاہ ہوں گے پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا ، پھر جبریہ بادشاہت ہو گی اور یہ بھی جب تک اللہ چاہے گا رہے گی ، پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا ، پھر خلافت نبوت کی طرز پر ہو گی ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے ۔ حبیب بیان کرتے ہیں ، جب عمر بن عبد العزیز ؒ نے خلافت سنبھالی تو میں نے ان کی یاد دہانی کے لیے انہیں یہ حدیث لکھی ، اور کہا : میں امید کرتا ہوں کہ ظالم بادشاہ اور جبریہ بادشاہت کے بعد آپ امیر المومنین ہیں ۔ وہ اس سے خوش ہوئے اور انہیں اچھا لگا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔