انس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : تم ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں (یعنی نہایت معمولی ہیں) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ہم انہیں مہلک شمار کیا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عائشہ ! چھوٹے گناہوں سے بھی اجتناب کرو کیونکہ ان گناہوں کے لیے بھی اللہ کی طرف سے (عذاب کا) مطالبہ کرنے والا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوبردہ بن ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن عمر ؓ نے مجھے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد نے آپ کے والد سے کیا فرمایا تھا ؟ انہوں نے کہا : مجھے علم نہیں ، انہوں نے فرمایا : میرے والد نے آپ کے والد سے کہا : ابوموسیٰ کیا یہ بات تمہیں خوش کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ہمارا اسلام ، آپ کی معیت میں ہماری ہجرت اور آپ کی معیت میں ہمارا جہاد اور آپ کے ساتھ ہم نے جو بھی عمل کیے وہ ہمارے لیے ثابت و برقرار رہیں ، اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو عمل کیے ہیں ، ہم ان میں برابر برابر (گناہ نہ ثواب) رہ جائیں ؟ اس پر آپ کے والد نے میرے والد سے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم ! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جہاد کیا ، نمازیں پڑھیں ، روزے رکھے ، بہت سے نیک کام کیے اور بہت سے لوگوں نے ہمارے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا ، اور ہم ان کاموں کے ثواب کی امید رکھتے ہیں ، میرے والد نے کہا : لیکن میں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر ؓ کی جان ہے ! یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ اعمال (جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیے) ہمارے لیے ثابت رہیں ، اور وہ تمام اعمال جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کیے ، ان میں ہم برابر برابر نجات پا جائیں ، میں (ابوبردہ) نے کہا : بے شک آپ کے والد (عمر ؓ) ، اللہ کی قسم ! میرے والد سے بہتر تھے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے رب نے مجھے نو چیزوں کا حکم فرمایا : پوشیدہ و اعلانیہ ہر حالت میں اللہ کا ڈر رکھنا ، غضب و رضا میں حق بات کرنا ، فقر و مال داری میں میانہ روی اختیار کرنا ، جو شخص مجھ سے قطع تعلق کرے میں اس کے ساتھ تعلق قائم کروں ، جو شخص مجھے محروم رکھے میں اسے عطا کروں ، جس شخص نے مجھ پر ظلم کیا میں اسے معاف کروں ، میرا خاموش رہنا غور و فکر کا پیش خیمہ ہو ، میرا بولنا ذکر ہو اور میرا دیکھنا عبرت ہو ، اور یہ کہ میں نیکی کا حکم دوں ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس مومن بندے کی آنکھوں سے اللہ کے ڈر کے پیش نظر آنسو نکل آئیں ، خواہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہوں ، پھر وہ اس کے چہرے پر آ جائیں تو اللہ اس شخص کو جہنم کی آگ پر حرام قرار دے دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگ (اپنے حالات و صفات کے اختلاف کے لحاظ سے) ان سو اونٹوں کی طرح ہیں جن میں تم ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی و موافقت کرو گے جس طرح بالشت بالشت کے برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے ، حتیٰ کہ اگر وہ سانڈے کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی ان کی موافقت کرو گے ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! (پہلے لوگوں سے مراد) یہود و نصاریٰ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تو پھر اور کون ہیں ؟‘‘ متفق علیہ ۔
مرداس اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نیک لوگ ایک ایک کر کے چلے جائیں گے ، اور بے کار لوگ باقی رہ جائیں گے جیسے جو کا بھوسہ یا کھجور کا کچرا باقی رہ جاتا ہے جن کی اللہ کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہو گی ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب میری امت تکبرانہ چال چلے گی اور بادشاہوں کے بیٹے (یعنی) فارس و روم کے شہزادے ان کے خادم بن جائیں گے تو اللہ اس (امت) کے برے لوگوں کو ان کے اچھے لوگوں پر مسلط فرما دے گا ۔‘‘ ترمذی اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک تم اپنے خلیفہ کو قتل نہیں کرو گے ، باہم قتل و غارت نہیں کرو گے اور تمہارے برے لوگ تمہاری دنیا کے وارث نہیں بن جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ ذلیل و کمینہ شخص دنیا (کے مال و متاع اور عہدہ و منصب) سے سب سے زیادہ بہرہ مند ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں ، مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جس نے علی بن ابی طالب ؓ سے سنا : انہوں نے فرمایا : ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک مصعب بن عمیر ؓ ہمارے پاس آئے ان پر صرف ایک ہی چادر تھی جس پر چمڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ ان کی سابقہ نعمتوں والی حالت اور آج کی حالت کا فرق دیکھ کر رونے لگے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری حالت کیا ہو گی جب تم میں سے کوئی شخص دن کے پہلے پہر ایک جوڑا پہنے گا اور دن کے دوسرے پہر دوسرا جوڑا پہنے گا ، ان کے دسترخوان پر ایک طشتری رکھی جائے گی اور دوسری اٹھائی جائے گی ، اور تم اپنے گھروں کو (پردوں اور سجاوٹ کی چیزوں سے) اس طرح ڈھانپو گے جس طرح کعبہ کو (غلافوں کے ساتھ) ڈھانپا جاتا ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس وقت ہم آج کی نسبت بہتر ہوں گے ، ہم عبادت کے لیے فارغ ہوں گے اور ہم کام کاج سے فارغ کر دیے جائیں گے (ملازم کام کریں گے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، اس وقت کی نسبت آج تم بہتر ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ اس وقت اپنے دین پر قائم رہنے والا انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : اس حدیث کی سند غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تمہارے امراء وہ ہوں گے جو تم میں سب سے بہتر ہوں گے ، تمہارے مال دار لوگ سخی اور تمہارے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوں گے تو پھر تمہارے لیے زمین کی پشت اس کے پیٹ سے بہتر ہو گی (یعنی زندگی موت سے بہتر ہو گی) اور جب تمہارے حکمران برے لوگ ہوں گے ، تمہارے مال دار لوگ بخیل اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں گے تو پھر تمہارے لیے زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہو گا ۔‘‘ (موت زندگی سے بہتر ہو گی) ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قریب ہے کہ (گمراہ) قومیں تمہارے خلاف (لڑنے کے لیے) دوسری قوموں کو بلائیں جس طرح کھانے والے کھانے کے برتن کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ۔‘‘ کسی نے عرض کیا : اس روز ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایسے ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ اس روز تم زیادہ ہو گے ، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ہو گے ، اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دل میں وہن ڈال دے گا ۔‘‘ کسی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہن کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا سے محبت اور موت سے نفرت ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جس قوم میں خیانت عام ہو جائے تو اللہ ان کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہے ، جس قوم میں زنا پھیل جائے تو ان میں اموات بڑھ جاتی ہیں ، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو ان سے رزق روک لیا جاتا ہے ، جو قوم ناحق فیصلے کرنے لگے تو ان میں قتل عام ہو جاتا ہے اور جو قوم عہد شکنی کرتی ہے تو ان پر دشمن مسلط کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ املک ۔
عیاض بن حمار مجاشعی ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا :’’ سن لو ! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اس سے ، جو اس نے مجھے آج تعلیم دی ہے ، وہ چیزیں سکھاؤں جو تم نہیں جانتے ، وہ تمام مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ہے وہ حلال ہے ، میں نے اپنے تمام بندوں کو حنفا (باطل سے دور رہنے والے اور حق قبول کرنے کے لیے تیار رہنے والے) پیدا کیا ہے ، بے شک شیاطین ان کے پاس آتے ہیں اور وہ انہیں ان کے دین سے دور کر دیتے ہیں ، اور میں نے ان کے لیے جو حلال کیا تھا وہ ان چیزوں کو ان پر حرام کر دیتے ہیں ، اور وہ انہیں حکم دیتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ شریک کریں جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری ، بے شک اللہ نے اہل زمین کی طرف دیکھا تو اس نے اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے سوا ان کے عرب و عجم کو مبغوض ٹھہرا دیا ، اور فرمایا : میں نے آپ کو صرف اس لیے مبعوث کیا ہے تا کہ میں آپ کو آزماؤں اور آپ کے ذریعے (آپ کی قوم کو) آزماؤں ، میں نے آپ پر کتاب اتاری جسے پانی نہیں دھو سکتا (ناقابل تنسیخ ہے) ، آپ اسے سوتے جاگتے پڑھیں گے ، بے شک اللہ نے مجھے قریش کو ہلاک کرنے کا حکم فرمایا تو میں نے عرض کیا : میرے پروردگار ! وہ میرا سر کچل دیں گے اور اسے روٹی بنا دیں گے ، فرمایا : آپ انہیں نکال دیں جیسے انہوں نے آپ کو نکال دیا تھا آپ ان سے جہاد کریں ، ہم آپ کو تیار کریں گے ، آپ خرچ کریں ، آپ پر خرچ کیا جائے گا ، آپ لشکر بھیجیں ، ہم بھی اس کی مثل (فرشتوں کے) پانچ لشکر بھیجیں گے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اطاعت گزاروں کے ساتھ نافرمانوں کے خلاف قتال کریں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت :’’ اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈرائیں ۔‘‘ نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ کر آواز دینے لگے : بنو فہر ! بنو عدی ! (جو کہ قریش کے قبیلے ہیں) حتیٰ کہ وہ اکٹھے ہو گئے ، تو فرمایا :’’ مجھے بتاؤ اگر میں تمہیں خبر دوں کہ وادی میں ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے ؟‘‘ انہوں نے کہا : جی ، ہم نے آپ کو سچا ہی پایا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں عذاب شدید سے پہلے تمہیں آگاہ کرنے والا ہوں ۔‘‘ ابولہب نے کہا : باقی ایام میں تیرے لیے ہلاکت ہو ، کیا تم نے اس لیے ہمیں جمع کیا تھا ، تب سورت (تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ ) ’’ ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ تباہ و برباد ہو جائے ۔‘‘ نازل ہوئی ۔ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ نے آواز دی ’’ بنو عبد مناف ! میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ اپنے اہل و عیال کو بچانے چلا تو اسے اندیشہ ہوا کہ وہ (دشمن) اس پر سبقت لے جائیں گے تو وہ (دشمن کی اطلاع دینے کے لیے) زور زور سے کہتا ہے : یا صبا حاہ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت :’’ اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ ۔‘‘ نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش کو آواز دی ، وہ سب جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عام و خاص سبھی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے بنی کعب بن لؤی ! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے آزاد کرا لو ، اے بنو مرہ بن کعب ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ، اے بنو عبد شمس ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ، بنو عبد المطلب ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ، فاطمہ ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ ۔ میں اللہ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، البتہ جو حق قرابت ہے میں اسے احسان کے ساتھ نبھاؤں گا ۔‘‘ اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قریش کی جماعت ! اپنی جانوں کو (ایمان کے ساتھ آگ سے) بچاؤ ، میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ، بنو عبد مناف ! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ، عباس بن عبد المطلب ! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ، رسول اللہ کی پھوپھی صفیہ ! میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ، فاطمہ بنت محمد ! میرے مال میں سے جو چاہو لے لو ، میں اللہ کے ہاں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا ۔‘‘ رواہ مسلم و البخاری ۔
ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری یہ امت ، امت مرحومہ (جس پر رحم کیا گیا) ہے ، اس پر آخرت میں (شدید) عذاب نہیں ، دنیا میں اس کا عذاب فتنوں ، زلزلوں اور قتل کی صورت میں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔