ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہیں بھوک لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک ایک کھجور عطا فرمائی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو خصلتیں جس شخص میں ہوں اللہ اسے شاکر صابر لکھ دیتا ہے ، جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے اور پھر اس کی اقتدا کرتا ہے ، اور دنیا کے معاملے میں وہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھتا ہے اور اللہ نے جو اس کو اس پر فضیلت عطا کی ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے ، تو اللہ اسے شکر گزار صبر کرنے والا لکھ دیتا ہے ، اور جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے برتر کو دیکھتا ہے اور جو چیز اسے نہیں ملی اس پر افسوس کرتا ہے تو اللہ اسے شاکر و صابر نہیں لکھتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔ اور ابوسعید سے مروی حدیث :’’ مہاجرین کی فقیر جماعت خوش ہو جاؤ ‘‘ فضائل القرآن کے باب کے بعد ذکر کی گئی ہے ۔
ابو عبد الرحمن حبلی بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے سنا ، ایک آدمی نے ان سے سوال پوچھا : کیا ہم مہاجر فقرا میں سے نہیں ؟ عبداللہ ؓ نے اسے فرمایا : کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم رات بسر کرتے ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : کیا تیرے رہنے کے لیے گھر ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : تم تو مال داروں میں سے ہو ، اس نے کہا : میرے پاس تو ایک خادم بھی ہے ، انہوں نے فرمایا : تم تو بادشاہ ہو ، عبد الرحمن نے کہا ، تین آدمی عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس آئے ، میں اس وقت ان کے پاس تھا ، انہوں نے کہا : ابو محمد ! اللہ کی قسم ! ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ، کوئی خرچہ ہے نہ سواری اور نہ ہی ساز و سامان ، انہوں نے انہیں فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ اگر تم کچھ چاہو تو تم ہمارے پاس آنا ، اللہ نے تمہارے لیے جو میسر فرمایا وہ ہم تمہیں عطا کریں گے ، اور اگر تم چاہو تو ہم تمہارا معاملہ بادشاہ سے ذکر کریں گے ؟ اور اگر تم چاہو تو صبر کرو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مہاجر فقرا روز قیامت مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہم صبر کرتے ہیں اور ہم کوئی چیز نہیں مانگیں گے ۔ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا جبکہ فقرا مہاجرین کا بھی ایک حلقہ لگا ہوا تھا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ ان کے حلقے میں شامل ہو گئے ، میں بھی اٹھ کر ان کی طرف چلا گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ فقرا مہاجرین کو اس بات کی بشارت دی جائے جس سے ان کے چہرے خوش ہو جائیں ، کیونکہ وہ مال داروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے چمکنے لگے ، اور عبداللہ بن عمرو ؓ نے بیان کیا ، حتیٰ کہ میں نے تمنا کی کہ میں ان کے ساتھ ہوتا یا ان میں سے ہوتا ۔ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے خلیل نے مجھے سات چیزوں کے متعلق حکم فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مساکین سے محبت کرنے اور ان کے قریب رہنے کا مجھے حکم فرمایا ، آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنے سے کم تر کی طرف دیکھوں اور جو مجھ سے (دنیا کے لحاظ سے) برتر ہے اس کی طرف نہ دیکھوں ، آپ نے مجھے صلہ رحمی کا حکم فرمایا اگرچہ وہ قطع رحمی کریں ، آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں کسی سے کوئی چیز نہ مانگوں ، آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں حق بات کروں اگرچہ وہ کڑوی ہو ، آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اللہ کے (حق کے) بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈروں ، اور آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ((لَا حَوْلَ وَلَا قَوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ)) کثرت سے پڑھا کروں ، کیونکہ وہ (کلمات) عرش کے نیچے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا کی تین چیزیں پسند تھیں ، کھانا ، عورتیں اور خوشبو ، آپ کو دو چیزیں مل گئیں اور ایک نہ مل سکی ، آپ کو عورتیں (ازواج مطہرات ؓ) اور خوشبو مل گئی لیکن (شکم سیر) کھانا نہ ملا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خوشبو اور عورتیں میرے لیے پسندیدہ بنا دی گئی ہیں ، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے ۔‘‘ احمد ، نسائی ، اور ابن جوزی نے ((حُبَّبَ إلَیَّ)) کے بعد ((مِنَ الدُّنْیَا)) کا اضافہ نقل کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و النسائی ۔
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا :’’ زیادہ ناز و نعمت کی زندگی سے بچنا ، کیونکہ اللہ کے (مخلص) بندے زیادہ نعمت گزاران نہیں ہوتے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی طرف سے ملنے والے تھوڑے سے رزق پر راضی ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے تھوڑے عمل سے راضی ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بھوک میں مبتلا ہوا یا کسی چیز کا ضرورت مند ہوا اور اس نے اسے لوگوں سے چھپائے رکھا تو اللہ عزوجل پر حق ہے کہ وہ اسے سال بھر کے لیے رزق حلال عطا فرمائے ۔‘‘ دونوں روایتوں کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ اپنے اس مومن عیال دار بندے کو پسند کرتا ہے جو ضرورت مند ہونے کے باوجود سوال نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
زید بن اسلم ؒ بیان کرتے ہیں ، ایک روز عمر ؓ نے پانی طلب کیا تو انہیں شہد ملا پانی پیش کیا گیا ، انہوں نے فرمایا : یہ تو بہت اچھا ہے ، لیکن میں اللہ عزوجل کا فرمان سنتا ہوں کہ اس نے ایک قوم کو ان کی شہوات پر معیوب قرار دیتے ہوئے فرمایا :’’ تم نے اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگانی میں حاصل کر لیں اور تم نے ان سے استفادہ کر لیا ۔‘‘ میں تو ڈرتا ہوں کہ ہماری نیکیوں کا ثواب دنیا ہی میں نہ دے دیا جائے ، لہذا انہوں نے اسے نہ پیا ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے فتح خیبر سے پہلے کبھی بھی سیر ہو کر کھجوریں نہیں کھائیں ۔ رواہ البخاری ۔
عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مربع شکل خط کھینچا اور ایک خط (اس مربع کے) وسط میں اس سے باہر جاتا ہوا کھینچا اور کچھ اس وسط والے خط کے پہلو میں چھوٹے چھوٹے خط اور کھینچے اور فرمایا :’’ یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل (موت) ہے ، جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور جو باہر کی طرف نکل رہی ہے یہ اس کی امید ہے ، اور یہ چھوٹے چھوٹے خطوط پیش آمدہ حادثات ہیں ، اگر ایک اس سے خطا کر جاتا ہے تو یہ (دوسرا) اسے دبوچ لیتا ہے ، اور اگر یہ اس سے خطا کر جاتا ہے تو یہ اسے دبوچ لیتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ خط کھینچے تو فرمایا :’’ یہ امید ہے ، اور یہ اس کی موت ہے ، وہ اسی اثنا میں ہوتا ہے تو زیادہ قریب والا خط اچانک اس تک آ پہنچتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انسان بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں ، مال کی حرص اور عمر کی حرص ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بوڑھے شخص کا دل دو چیزوں کے بارے میں جوان ہی رہتا ہے : دنیا کی محبت کے بارے میں اور لمبی خواہشوں کے بارے میں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے اس شخص سے (توبہ نہ کرنے اور نیک عمل نہ کرنے کا) عذر زائل کر دیا جس کی اجل کو مؤخر کیا حتیٰ کہ اسے ساٹھ سال تک پہنچا دیا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عباس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر انسان کے لیے مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرتا ہے ، انسان کے پیٹ کو صرف (قبر کی) مٹی ہی بھرے گی ، اور اللہ توبہ کرنے والے شخص کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے جسم کے کسی حصے کو پکڑ کر فرمایا :’’ دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک پردیسی یا راہ گیر ہو اور اپنے آپ کو اہل قبور (مُردوں) میں سے شمار کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔