انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انسان کو روز قیامت بکری کے بچے کی طرح (ذلت کے ساتھ) پیش کیا جائے گا ، اور اسے اللہ کے حضور کھڑا کیا جائے گا تو وہ اس سے فرمائے گا : میں نے تجھے (حیات و حواس ، صحت و عافیت) عطا کی ، میں نے تجھے خادم ملازم عطا کیے اور (انبیا و کتب نازل فرما کر) تجھ پر انعام فرمایا ، تو نے کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا رب جی ! میں نے اس (مال) کو جمع کیا اور اس کو بڑھایا اور جتنا تھا اس سے زیادہ چھوڑا ، تو مجھے واپس بھیج میں وہ سارا تیری خدمت میں لے آتا ہوں ۔ اسے کہا جائے گا : تم نے جو آگے بھیجا تھا وہ مجھے دکھاؤ ، تو وہ پھر وہی کہے گا ، میں نے اسے جمع کیا ، اسے بڑھایا اور وہ جتنا تھا اس سے زیادہ اسے چھوڑا ، لہذا تو مجھے واپس بھیج میں وہ سارا تیری خدمت میں لا حاضر کرتا ہوں ، چنانچہ وہ ایسا (بد قسمت) انسان ہو گا جس نے کوئی نیکی آگے نہیں بھیجی ہو گی ، اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت بندے سے نعمتوں کے بارے میں سب سے پہلے یوں سوال کیا جائے گا : کیا ہم نے تیرے جسم کو درست نہیں بنایا تھا ، اور (کیا) ہم نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا ؟‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابن مسعود ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت انسان کے قدم (اللہ کے دربار میں) برابر جمے رہیں گے حتیٰ کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق نہ پوچھ لیا جائے : اس کی عمر کے متعلق کہ اس نے اسے کن کاموں میں ختم کیا ، اس کی جوانی کے متعلق کہ اس نے اسے کہاں ضائع کیا ، اس کے مال کے متعلق کہ اس نے اسے کہاں سے حاصل کیا اور اسے کن مصارف میں خرچ کیا اور اپنے علم کے مطابق کتنا عمل کیا ؟‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ تم سرخ سے بہتر ہو نہ سیاہ سے ، مگر یہ کہ تم اس سے تقویٰ کے ذریعے فضیلت حاصل کرو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بندہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کے دل میں حکمت پیدا فرما دیتا ہے ، اس (حکمت) کو اس کی زبان پر جاری فرما دیتا ہے ، دنیا کا عیب ، اس کی بیماریاں اور اس کے علاج پر اسے بصیرت عطا فرما دیتا ہے اور اسے اس سے صحیح سلامت دار السلام (جنت) کی طرف نکال لے جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص نے فلاح پائی جس کے دل کو اللہ نے ایمان کے لیے خالص کر دیا ، اس کے دل کو (حسد و بغض وغیرہ سے) سلامت رکھا ، اس کی زبان کو راست گو بنایا ، اس کے نفس کو مطمئن بنایا ، اس کی طبیعت کو مستقیم بنایا ، اس کے کانوں کو غور سے (حق) سننے والا اور اس کی آنکھ کو (دلائل) دیکھنے والا بنایا ، کان اس چیز کے لیے جسے دل محفوظ رکھتا ہے ، قیف ہیں اور آنکھ محل قرار و ثبات ہے ، اور اس شخص نے فلاح پائی جس نے اپنے دل کو محافظ بنایا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عقبہ بن عامر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم اللہ عزوجل کو دیکھو کہ وہ بندے کو اپنی معصیت کے باوجود دنیا دے رہا ہے جس (معصیت) کو وہ پسند نہیں کرتا تو وہ کوئی تدبیر ہے ۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ جب انہوں نے اس چیز کو بھلا دیا جس کے ذریعے انہیں سمجھایا گیا تھا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے ، حتیٰ کہ جب وہ عطا کردہ چیزوں پر خوش ہو گئے تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا ، تب وہ متحیر و ناامید ہو گئے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اہل صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا تو اس نے ایک دینار چھوڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (یہ دینار) ایک داغ (دینے کے باعث) ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر دوسرا آدمی فوت ہوا تو اس نے دو دینار چھوڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (یہ دو دینار) دو داغ (دینے کا باعث) ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے ماموں ابوہاشم بن عتبہ ؓ کی عیادت کے لیے گئے تو ابوہاشم ؓ رونے لگے ، انہوں نے پوچھا : ماموں جان ! کون سی چیز آپ کو رلا رہی ہے ، کیا کوئی تکلیف تمہیں اضطراب میں ڈال رہی ہے یا دنیا کی حرص ؟ انہوں نے کہا ، ہرگز نہیں ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں وصیت فرمائی تھی لیکن میں نے اس پر عمل نہ کیا ، انہوں نے فرمایا : وہ (وصیت) کیا تھی ؟ انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تمہارے لیے اتنا مال جمع کرنا ہی کافی ہے کہ ایک خادم ہو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے ایک سواری ہو ۔‘‘ اور میں خیال کرتا ہوں کہ میں (مال) جمع کر چکا ہوں ۔ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
ام درداء ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے ابودرداء ؓ سے کہا : آپ کو کیا ہے کہ آپ فلاں کی طرح (مال و منصب) طلب نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تمہارے آگے ایک دشوار گھاٹی ہے جسے بھاری وزن اٹھانے والے پار نہیں کر سکیں گے ۔‘‘ میں چاہتا ہوں کہ میں اس گھاٹی (سے گزرنے ) کے لیے وزن ہلکا رکھوں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا کوئی ایسا شخص ہے جو پانی پر چلتا ہو لیکن اس کے پاؤں گیلے نہ ہوتے ہوں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا دار شخص اسی طرح ہے ، وہ گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔‘‘ ان دونوں احادیث کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
جبیر بن نفیر ؒ مرسل روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری طرف یہ وحی نہیں کی گئی کہ میں مال جمع کروں اور تاجروں میں سے ہو جاؤں ، بلکہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ ’’ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں ، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں حتیٰ کہ آپ وفات پا جائیں ۔‘‘ شرح السنہ ، اور ابونعیم نے ابو مسلم سے حلیہ میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و فی حلیہ الاولیاء ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے حلال طریقے سے ، مانگنے سے بچنے کے لیے ، اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کے لیے اور اپنے پڑوسی پر مہربانی کرنے کے لیے دنیا طلب کی تو وہ روز قیامت اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح (چمکتا) ہو گا ۔ اور جس شخص نے حلال طریقے سے ، مال میں اضافہ کرنے کے لیے ، باہم فخر کرنے کے لیے اور ریاکاری کے لیے دنیا طلب کی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک یہ خیر کے خزانے ہیں ، ان خزانوں کی چابیاں ہیں ، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جسے اللہ نے خیر کے لیے چابی (کھولنے والا) بنا دیا اور شر کو بند کرنے والا بنا دیا ، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جسے اللہ نے شر کھولنے والا اور خیر کو بند کرنے والا بنایا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابن ماجہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب بندے کے کسی مال میں برکت نہ رکھی جائے تو وہ اس مال کو پانی اور مٹی (یعنی تعمیر) پر صرف کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تعمیرات کے سلسلے میں (ارتکاب) حرام سے بچو ، کیونکہ وہ خرابی کی اساس ہے ۔‘‘ دونوں روایات کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عائشہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہیں ، اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہیں ، اور اس (دنیا) کے لیے وہی جمع کرتا ہے جو عقل مند نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوران خطبہ فرماتے ہوئے سنا :’’ شراب تمام گناہوں کا مجموعہ ہے ، عورتیں شیطان کے جال ہیں ، اور دنیا کی محبت ہر گناہ کی اصل و بنیاد ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ عورتوں کو پیچھے رکھو جیسے اللہ نے انہیں پیچھے رکھا ۔‘‘ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں اسے حسن سے مرسل روایت کیا ہے :’’ دنیا کی محبت تمام گناہوں کی بنیاد ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اپنی امت کے متعلق خواہش نفس اور طول آرزو کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے ، کیونکہ خواہش نفس حق سے روکتی ہے جبکہ طول آرزو آخرت بھلا دیتی ہے ، اور یہ دنیا (غیر محسوس طریقے سے) چلی جا رہی ہے جبکہ آخرت (اسی طرح) چلی آ رہی ہے ، اور دونوں میں سے ہر ایک کے طلبگار ہیں ، تم دنیا کے طلبگار نہ بنو ، عمل کرتے رہو ، کیونکہ آج تم دارِ عمل میں ہو اور کوئی حساب نہیں ، اور کل دارِ آخرت میں ہو گے اور کوئی عمل نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔