Back to Mishkat Al-Masabih

Virtues

كتاب المناقب

Chapter 29

Hadith 5979
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْن مسلمهم تبع مسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس (دین یا خلافت) کے معاملے میں لوگ قریش کے تابع ہیں ، ان (لوگوں) کے مسلمان ، قریشی مسلمانوں کے تابع ہیں ، اور ان (عام لوگوں) کے کافر ، ان (قریش کے) کافروں کے تابع ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5980
sahih
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّر» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ لوگ خیر (اسلام) اور شر (کفر) میں قریش کے تابع ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 5981
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَان» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ معاملہ (خلافت) قریش میں رہے گا جب تک ان میں دو آدمی بھی باقی رہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5982
sahih
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجهه مَا أَقَامُوا الدّين» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے :’’ یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے ، اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا اللہ اسے چہرے کے بل اوندھا کر کے ذلیل کر دے گا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 5983
sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَة أَو يَكُونُ عَلَيْهِمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْش» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بارہ خلیفوں تک اسلام غالب رہے گا اور وہ سب قریش سے ہوں گے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ لوگوں کے معاملات صحیح اور درست چلتے رہیں گے جب تک بارہ آدمی ان کے حکمران رہیں گے ، وہ سب قریش سے ہوں گے ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے :’’ قیامت تک دین قائم رہے گا اور ان پر بارہ خلیفے ہوں گے اور وہ سب قریش سے ہوں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5984
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قبیلہ غفار جو ہے ، اللہ نے انہیں معاف فرما دیا ، قبیلہ اسلم کو اللہ نے سلامت رکھا اور جو قبیلہ عصیہ ہے اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5985
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قریش ، انصار ، جہینہ ، مزینہ ، اسلم ، غفار اور اشجع قبیلے میرے حمایتی ہیں ، اور اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5986
sahih
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بني تَمِيم وَبني عَامِرٍ وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسْدٍ وَغَطَفَانَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسلم ، غفار ، مزینہ ، اور جہینہ قبیلے ، بنو تمیم اور بنو عامر قبیلوں سے بہتر ہیں ، اور وہ دو حلیفوں بنو اسد اور غطفان سے بھی بہتر ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5987
sahih
وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثلاثٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ» قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا» وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ: «اعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے بنو تمیم کے متعلق جب سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تین خصلتیں سنی ہیں ، تب سے میں انہیں محبوب رکھتا ہوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میری امت میں سے وہ دجال پر سب سے زیادہ سخت ہوں گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ان کے صدقات آئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں ۔‘‘ اور عائشہ ؓ کے پاس ان کے کچھ قیدی تھے ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ انہیں آزاد کر دو کیونکہ وہ اسماعیل ؑ کی اولاد میں سے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5988
sahih
عَنْ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ الله» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

سعد ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قریش کی اہانت کرنا چاہے گا اللہ اس کی اہانت و تذلیل کرے گا ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5989
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! تو نے (بدر و احزاب میں) قریش کے پہلے افراد کو عذاب میں مبتلا کیا ، تو ان کے بعد والوں کو انعام عطا فرما ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5990
sahih
وَعَن أبي عَامر الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرُونَ لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

ابوعامر اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسد اور اشعر قبیلے اچھے ہیں ، وہ میدان جہاد سے فرار ہوتے ہیں نہ خیانت کرتے ہیں ، وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5991
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَزْدُ أَزْدُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَرْفَعَهُمْ وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ: يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًا وَيَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ازد قبیلہ زمین پر اللہ کا لشکر ہے ، لوگ چاہتے ہیں کہ وہ انہیں نیچا دکھائیں لیکن اللہ نے اس بات کا انکار فرما دیا ہے ، وہ انہیں رفعت ہی عطا فرماتا ہے ، لوگوں پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ آدمی خواہش کرے گا کہ کاش میرا والد ازدی ہوتا اور کاش میری والدہ ازدی ہوتی ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5992
sahih
وَعَن عمرَان بن حُصَيْن قَالَ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكْرَهُ ثَلَاثَةَ أَحْيَاءٍ: ثَقِيفٌ وَبَنِي حَنِيفَةَ وَبَنِي أُمَيَّةَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
Urdu

عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی تو وہ تین قبیلوں کو ناپسند فرماتے تھے ، ثقیف ، بنو حنیفہ اور بنو امیہ ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5993
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ يُقَالُ: الْكَذَّابُ هُوَ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ وَالْمُبِيرُ هُوَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ وَقَالَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ: أَحْصَوْا مَا قَتَلَ الْحَجَّاجُ صَبْرًا فَبَلَغَ مِائَةَ ألفٍ وَعشْرين ألفا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ثقیف (قبیلے) میں ایک شخص کذاب اور ایک ظالم ہو گا ۔‘‘ عبداللہ بن عصمہ نے کہا : کذاب سے مراد مختار بن ابی عبید اور ظالم سے مراد حجاج بن یوسف ہے ، ہشام بن حسان نے کہا : حجاج نے جن افراد کو باندھ کر قتل کیا ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچتی ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5994
sahih
وَرَوَى مُسْلِمٌ فِي «الصَّحِيحِ» حِينَ قَتَلَ الْحَجَّاجُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَتْ أَسْمَاءَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا «أَن فِي ثَقِيف كذابا ومبيرا» فَأَما الْكذَّاب فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ. وَسَيَجِيءُ تَمام الحَدِيث فِي الْفَصْل الثَّالِث
Urdu

امام مسلم ؒ نے صحیح مسلم میں روایت کیا ہے ، جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو قتل کیا تو اسماء ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حدیث بیان کی کہ ثقیف قبیلے میں ایک کذاب اور ایک ظالم ہو گا ۔ رہا کذاب تو ہم نے اسے دیکھ لیا اور رہا ظالم تو میرا خیال ہے کہ یہ وہی ہے ۔ رواہ مسلم ۔ اور مکمل حدیث تیسری فصل میں آئے گی ۔

Hadith 5995
sahih
وَعَن جَابر قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ. قَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ ثقيفا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ثقیف قبیلے کے تیروں نے ہمیں جلا کر رکھ دیا ہے ، آپ ان کے لیے اللہ سے بددعا فرمائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! ثقیف قبیلے کو ہدایت عطا فرما ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5996
sahih
وَعَن عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مِينَاءَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فجَاء رَجُلٌ أَحْسَبُهُ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ من الشقّ الآخر فَأَعْرض عَنهُ ثمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ويُروى عَن ميناءَ هَذَا أَحَادِيث مَنَاكِير
Urdu

عبدالرزاق ، اپنے والد سے ، وہ میناء سے اور وہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے کہ آدمی آپ کے پاس آیا میرا خیال ہے قیس قبیلے سے تھا ، اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! حمیر قبیلے پر لعنت فرمائیں ، آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، پھر وہ دوسری جانب سے آیا تو آپ نے اس سے اعراض فرمایا ، پھر وہ دوسری جانب سے آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض فرمایا ، نیز فرمایا :’’ اللہ حمیر پر رحم فرمائے ، ان کے منہ سلام کرتے ہیں ، ان کے ہاتھ کھانا کھلاتے ہیں ، اور وہ امن و امان والے ہیں ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ہم اسے صرف عبدالرزاق کے طریق سے پہچانتے ہیں ، اور اس میناء سے منکر احادیث روایت کی جاتی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5997
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ دَوْسٍ. قَالَ: «مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ فِي دَوْسٍ أحدا فِيهِ خير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ تم کس قبیلے سے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، دوس سے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں نہیں سمجھتا تھا کہ دوس قبیلے کے کسی شخص میں بھلائی ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 5998
sahih
وَعَن سلمَان قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُبْغِضُنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ» قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ؟ قَالَ: «تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Urdu

سلمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ مجھے ناراض نہ کرنا ورنہ تم اپنے دین سے نکل جاؤ گے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کو کیسے ناراض کر سکتا ہوں ، آپ کی وجہ سے اللہ نے ہمیں ہدایت نصیب فرمائی ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم عربوں سے دشمنی رکھو گے تو تم مجھ سے دشمنی رکھو گے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔