The Book of Qiyam Al-Lail (The Night Prayer) and Voluntary Prayers During the Day
كتاب قيام الليل وتطوع النهار
Chapter 20
It was narrated from Nafi' that Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہم said:
Pray in your houses and do not make them like graves.
ہم سے عباس بن عبد العظیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا: ہم سے جویریہ بن اسماء نے ولید بن ابی ہشام کی سند سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھو، انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔
It was narrated from Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) used some palm fiber mats to section off a small area in the masjid. And the Messenger of Allah (ﷺ) prayed in it for several nights until the people gathered around him. Then, one night they did not hear his voice, and they thought that he was sleeping, so they cleared their throats to make him come out to them. He said: 'You kept doing that until I feared that it would be made obligatory for you, and if it were made obligatory, you would not be able to do it. O people, pray in your houses, for the best prayer a person offers is in his house, apart from the prescribed (obligatory) prayers.'
ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، کہا: ہم سے وہب نے بیان کیا، کہا: میں نے موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں نے ابو نضر کو بسر بن سعید سے روایت کرتے ہوئے سنا, زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے گھیر کر ایک کمرہ بنایا، تو آپ نے اس میں کئی راتیں نمازیں پڑھیں یہاں تک کہ لوگ آپ کے پاس جمع ہونے لگے، پھر ان لوگوں نے ایک رات آپ کی آواز نہیں سنی، وہ سمجھے کہ آپ سو گئے ہیں، تو ان میں سے کچھ لوگ کھکھارنے لگے، تاکہ آپ ان کی طرف نکلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کام میں برابر لگا دیکھا تو ڈرا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کر دی جائے، اور اگر وہ تم پر فرض کر دی گئی تو تم اسے ادا نہیں کر سکو گے، تو لوگو! تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھا کرو، کیونکہ آدمی کی سب سے افضل ( بہترین ) نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو سوائے فرض نماز کے ۔
It was narrated from Sa'd bin Ishaq bin Ka'b bin Ujrah رضی اللہ عنہ , from his father, that: His grandfather said:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Maghrib in the masjid of Banu 'Abdul-Ashhal, and when he finished praying some people stood up and offered Nafl prayers. The Prophet (ﷺ) said: 'You should offer this prayer in your houses.'
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم کو ابراہیم بن ابی الوزیر نے خبر دی، کہا: ہم سے محمد بن موسیٰ الفطری نے بیان کیا، وہ سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز قبیلہ بنی عبدالاشہل کی مسجد میں پڑھی، جب آپ پڑھ چکے تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر سنت پڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( سنت ) نماز کو گھروں میں پڑھنے کی پابندی کرو ۔
It was narrated from Sa'd bin Hisham that:
He met Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم and asked him about Witr. He said: Shall I not lead you to one who knows best among the people of the world about the witr of the Messenger of Allah (ﷺ)? He said: Yes. (Ibn Abbas) said: It is 'Aishah رضی اللہ عنہا. So go to her and ask her (about witr) and then come back to me and tell me the answer that she gives you. So I went to Hakim bin Aflah and asked him to go accompany me to her. He said: I shall not go to her, for I told her not to say anything about these two (conflicting) groups, but she refused (to accept my advice) and went on (to participate in the conflict). I swore an oath, beseeching him (to take me to her). So he came with me and went unto her. She said to Hakim: Who is this with you? He said: He is Sa'd bin Hisham. She said: Which Hisham? He said: Ibn Amir. She supplicated for mercy for him and said: What a good man Amir was. He said: O Mother of the Believers, tell me about the character of the Messenger of Allah. She said: Don't you read the Qur'an? I said: Yes. She said The character of the Messenger of Allah (ﷺ) was the Qur'an. He said: I wanted to get up (and leave), then I thought of the Qiyam (night prayer) of the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Tell me about the Qiyam of the Messenger of Allah (ﷺ). She said: Do you not recite this surah: O you wrapped in garments? I said: Yes. She said: Allah, the Mighty and Sublime, made Qiyam Al-Lail obligatory at the beginning of this surah, so the Messenger of Allah (ﷺ) and his companions prayed Qiyam Al-Lail for one year. Allah (SWT) withheld the latter part of this surah for twelve months, then he revealed the lessening (of this duty) at the end of this surah, so Qiyam Al-Lail became voluntary after it had been obligatory. I felt inclined to stand up (and not ask anything further), then I thought of the witr of the Messenger of Allah (ﷺ). I said: O Mother of the Believers, tell me about the witr of the Messenger of Allah (ﷺ). She said: We used to prepare his siwak and water for his ablution, and Allah (SWT) would wake him when He wished during the night. He would use the siwak, perform ablution, and then pray eight rak'ahs in which he would not sit until he reached the eighth one. Then he would sit and remember Allah (SWT) and supplicate, then he would say the taslim that we could hear. Then he would pray two rak'as sitting after uttering the taslim, then he would pray one rak'ah, and that made eleven rak'ahs, O my son! When the Messenger of Allah (ﷺ) grew older and put on weight, he prayed witr with seven rak'ahs, then he prayed two rak'ahs sitting down after saying the taslim, and that made nine rak'ahs. O my son, when the Messenger of Allah (ﷺ)offered a prayer, he liked to continue to offer it, and when sleep, sickness, or pain distracted him from praying Qiyam Al-Lail, he would pray twelve rak'ahs during the day. I am not aware of the Prophet of Allah (ﷺ) having recited the whole Qur'an during a single night, or praying through the whole night until morning, or fasting a complete month, except Ramadan. I went to Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم and told him what she had said, and he said: She has spoken the truth. If I could go to her (and meet her face to face) I would so that she could tell me all of that verbally. Abu Abdur Rahman (An-Nasa'i) said: this is what occur in my book, and I do not know who is mistaken in the description of his witr, peace be upon him.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے سعید کی سند سے، قتادہ کی سند سے، زرارہ کی سند سے، سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ
وہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے ملے تو ان سے وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں اہل زمین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ سعد نے کہا: کیوں نہیں ( ضرور بتائیے ) تو انہوں نے کہا: وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، ان کے پاس جاؤ، اور ان سے سوال کرو، پھر میرے پاس لوٹ کر آؤ، اور وہ تمہیں جو جواب دیں اسے مجھے بتاؤ، چنانچہ میں حکیم بن افلح کے پاس آیا، اور ان سے میں نے اپنے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے چلنے کے لیے کہا، تو انہوں نے انکار کیا، اور کہنے لگے: میں ان سے نہیں مل سکتا، میں نے انہیں ان دو گروہوں کے متعلق کچھ بولنے سے منع کیا تھا، مگر وہ بولے بغیر نہ رہیں، تو میں نے حکیم بن افلح کو قسم دلائی، تو وہ میرے ساتھ آئے، چنانچہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حکیم سے کہا: تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا: سعد بن ہشام ہیں، تو انہوں نے کہا: کون ہشام؟ میں نے کہا: عامر کے لڑکے، تو انہوں نے ان ( عامر ) کے لیے رحم کی دعا کی، اور کہا: عامر کتنے اچھے آدمی تھے۔ سعد نے کہا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سراپا قرآن تھے، پھر میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق پوچھنے کا خیال آیا، تو میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق بتائیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورۃ «يا أيها المزمل» نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے شروع میں قیام اللیل کو فرض قرار دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایک سال تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے، اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کی آخر کی آیتوں کو بارہ مہینے تک روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، اور رات کا قیام اس کے بعد کہ وہ فرض تھا نفل ہو گیا، میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا، تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے متعلق بھی پوچھ لوں، تو میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بھی بتائیے تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھ دیتے، تو اللہ تعالیٰ رات میں آپ کو جب اٹھانا چاہتا اٹھا دیتا تو آپ مسواک کرتے، اور وضو کرتے، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ۲؎ جن میں آپ صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، ذکر الٰہی کرتے، دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سنائی دیتا، پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے تو اس طرح کل گیارہ رکعتیں ہوئیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا تو وتر کی سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، تو میرے بیٹے! اس طرح کل نو رکعتیں ہوئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو آپ کو یہ پسند ہوتا کہ اس پر مداومت کریں، اور جب آپ نیند، بیماری یا کسی تکلیف کی وجہ سے رات کا قیام نہیں کر پاتے تو آپ ( اس کے بدلہ میں ) دن میں بارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی آپ پوری رات صبح تک قیام ہی کرتے، اور نہ ہی کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے، سوائے رمضان کے، پھر میں ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے ان کی یہ حدیث بیان کی، تو انہوں نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچ کہا، رہا میں تو اگر میں ان کے یہاں جاتا ہوتا تو میں ان کے پاس ضرور جاتا یہاں تک کہ وہ مجھ سے براہ راست بالمشافہ یہ حدیث بیان کرتیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اسی طرح میری کتاب میں ہے، اور میں نہیں جانتا کہ کس شخص سے آپ کی وتر کی جگہ کے بارے میں غلطی ہوئی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever prays Qiyam during Ramadan out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، حمید بن عبدالرحمٰن کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے ( رات کا ) قیام کرے گا، تو اس کے گناہ جو پہلے ہو چکے ہوں بخش دیے جائیں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever prays Qiyam during Ramadan out of faith and in the hope of reward, he will be forgiven his previous sins.
ہم سے محمد بن اسماعیل ابوبکر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جویریہ نے مالک کی سند سے بیان کیا، کہا کہ زہری نے کہا: مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے ( رات کا ) قیام کرے گا، تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed in the masjid one night, and some people followed his prayer. Then he prayed the following night and more people came. Then they gathered on the third or fourth night and the Messenger of Allah (ﷺ) did not come out to them. When morning came he said: I saw what you did, and nothing prevented me from coming out to you but the fact that I feared that this would be made obligatory for you, and that was in Ramadan.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ کی نماز کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی نماز پڑھی، پھر آپ نے آنے والی رات میں بھی نماز پڑھی اور لوگ بڑھ گئے تھے، پھر تیسری یا چوتھی رات میں لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے ہی نہیں، پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: تم نے جو دلچسپی دکھائی اسے میں نے دیکھا، تو تمہاری طرف نکلنے سے مجھے صرف اس چیز نے روک دیا کہ میں ڈرا کہ کہیں وہ تمہارے اوپر فرض نہ کر دی جائے ، یہ رمضان کا واقعہ تھا ۔
It was narrated that Abu Dharr رضی اللہ عنہ said:
We fasted with the Messenger of Allah (ﷺ) in Ramadan and he did not lead us in praying Qiyam until there were seven days left in the month, when he led us in praying Qiyam until one-third of the night had passed. Then he did not lead us in praying Qiyam when there were six days left. Then he led us praying Qiyam when there were five days left until one-half of the night had passed. I said: O Messenger of Allah! What if we spend the rest of this night praying Nafl? He said: Whoever prays Qiyam with the Imam until he finishes, Allah (SWT) will record for him the Qiyam of a (whole) night. Then he did not lead us in prayer or pray Qiyam until there were three days of the month left. Then he led us in praying Qiyam when there were three days left. He gathered his family and wives (and led us in prayer) until we feared that we would miss Al-Falah. I (one of the narrators) said: What is Al-Falah? He said: The suhur .
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن الفضیل نے داؤد بن ابی ہند کی سند سے، ولید بن عبدالرحمٰن نے جبیر بن نفیر کی سند سے بیان کیا, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں روزے رکھے، تو آپ ہمارے ساتھ ( تراویح کے لیے ) کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ مہینے کی سات راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی، پھر چوبیسویں رات کو قیام نہیں کیا، پھر پچیسویں رات کو قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہماری اس رات کے باقی حصہ میں بھی اسی طرح نفلی نماز پڑھاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے حق میں پوری رات کے قیام ( کا ثواب ) لکھے گا ، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، اور نہ آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ستائیسویں رات میں ہمارے ساتھ قیام کیا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی جمع کیا یہاں تک کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ کہنے لگے: سحری ہے۔
Nu'aim bin Ziyad Abu Talhah said:
I heard An-Nu'man bin Bashir رضی اللہ عنہم on the minbar in Hims saying: We prayed Qiyam with the Messenger of Allah (ﷺ) during Ramadan on the night of the twenty-third until one-third of the night had passed, then we prayed Qiyam with him on the night of the twenty-fifth until one-half of the night had passed, then we prayed Qiyam with him on the night of the twenty-seventh until we thought that we would miss Al-Falah- that is what they used to call suhur.
ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، کہا:نعیم بن زیاد ابوطلحہ کہتے ہیں کہ
میں نے نعمان بشیر رضی اللہ عنہم کو حمص میں منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تیئسویں رات کو تہائی رات تک قیام کیا، پھر پچسویں رات کو آدھی رات تک قیام کیا، پھر ستائیسویں رات کو ہم نے آپ کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ ہم فلاح نہیں پا سکیں گے، وہ لوگ سحری کو فلاح کا نام دیتے تھے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When any one of you goes to sleep, the Shaitan ties three knots on his head, saying each time: (Sleep) a long night. If he wakes up and remembers Allah (SWT), one knot is undone. If he performs wudu', another knot is undone. If he prays, all the knots are undone and he starts his day in a good mood and feeling energetic. Otherwise he starts his day in a bad mood and feeling lethargic.'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابو الزناد کی سند سے اور العرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر پر تین گرہیں لگا دیتا ہے، اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی رات بہت لمبی ہے، پس سوئے رہ، تو اگر وہ بیدار ہو جاتا ہے، اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر وہ وضو بھی کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر اس نے نماز پڑھی تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں، اور وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ ہشاس بشاس اور خوش دل ہوتا ہے، ورنہ اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ وہ بد دل اور سست ہوتا ہے ۔
It was narrated that Abdullah رضی اللہ عنہ said:
Mention was made in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) about a man who slept all night until morning. He said: 'That is a man in whose ear the Shaitan has urinated.'
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو جریر نے منصور کی سند سے اور ابووائل کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سوتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو آپ نے فرمایا: یہ ایسا آدمی ہے جس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے ۔
It was narrated that Abdullah رضی اللہ عنہ said:
A man said: 'O Messenger of Allah (ﷺ). So-and-so slept and missed the prayer yesterday until morning came.' He said: 'The Shaitan has urinated in that one's ears.'
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالعزیز بن عبدالصمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے منصور نے ابووائل کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کل کی رات نماز سے سویا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو آپ نے فرمایا: اس کے کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'May Allah (SWT) have mercy on a man who gets up at night and prays, then he wakes his wife and she prays, and if she refuses he sprinkles water in her face. And may Allah (SWT) have mercy on a woman who gets up at night and prays, then she wakes her husband and prays, and if he refuses she sprinkles water in his face.'
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے ابن عجلان کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے الققع نے ابو صالح کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رحم کرے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے، پھر اپنی بیوی کو بیدار کرے، تو وہ ( بھی ) نماز پڑھے، اگر نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اور اللہ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور تہجد پڑھے، پھر اپنے شوہر کو ( بھی ) بیدار کرے، تو وہ بھی تہجد پڑھے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۔
It was narrated from 'Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) came to him and Fatimah at night and said: Won't you pray? I said: O Messenger of Allah (ﷺ), our souls are in the hand of Allah and if He wants to make us get up, He will make us get up. The Messenger of Allah (ﷺ) went away when I said that to him. Then as he was leaving I heard him striking his thigh and saying: But, man is ever more quarrelsome than anything.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے عقیل کی سند سے، زہری کی سند سے، علی بن حصین کی سند سے، کہ ان سے حسین بن علی نے بیان کیا, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور فاطمہ کو ( دروازہ کھٹکھٹا کر ) بیدار کیا، اور فرمایا: کیا تم نماز نہیں پڑھو گے؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ انہیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ پڑے، پھر میں نے آپ کو سنا، آپ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے اور اپنی ران پر ( ہاتھ ) مار کر فرما رہے تھے: «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» انسان بہت حجتی ہے ۔
It was narrated from Ali bin Husain, from his father, that: His grandfather Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) came in to Fatimah and I, one night and woke us up to pray, then he went back to his house and prayed for part of the night, and he did not hear any movement from us. He came back to us and woke us up, and said: 'Get up and pray.' I sat up, rubbing my eyes, and said: 'By Allah, we will only pray that which has decreed for us; our souls are in the hand of Allah (SWT) and if He wants to make us get up, He will make us get up.' The Messenger of Allah (ﷺ) turned away, striking his hand on his thigh, saying: 'We will only pray that which Allah (SWT) has decreed for us! But man is ever more quarrelsome than anything.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے عقیل کی سند سے، زہری کی سند سے، علی بن حصین کی سند سے، کہ ان سے حسین بن علی نے بیان کیا , علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں میرے اور فاطمہ کے پاس آئے، اور آپ نے ہمیں نماز کے لیے بیدار کیا، پھر آپ اپنے گھر لوٹ گئے، اور جا کر دیر رات تک نماز پڑھتے رہے، جب آپ نے ہماری کوئی آہٹ نہیں سنی تو آپ دوبارہ ہمارے پاس آئے، اور ہمیں بیدار کیا، اور فرمایا: تم دونوں اٹھو، اور نماز پڑھو ، تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا، میں اپنی آنکھ مل رہا تھا اور کہہ رہا تھا: قسم اللہ کی، ہم اتنی ہی پڑھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اگر وہ ہمیں بیدار کرنا چاہے گا تو بیدار کر دے گا تو یہ سنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیٹھ پھیر کر جانے لگے، آپ اپنے ہاتھ سے اپنی ران پر مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: ہم اتنی ہی پڑھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، انسان بہت ہی حجتی ہے ۔
It was narrated from Humaid bin 'Abdur-Rahman- that is Ibn 'Awf, that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best fasting after the month of Ramadan is the month of Allah, Al-Muharram, and the best prayer is prayer at night.'
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عوانہ نے ابو بشر کی سند سے اور حمید بن عبدالرحمٰن سے جو ابن عوف ہیں, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں ۱؎، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل ( تہجد ) ہے ۔
It was narrated from Abu Bishr Ja'far bin Abi Wahshiyyah that: He heard Humaid bin 'Abdur-Rahman say:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The best prayer after the obligatory (fard) prayers is prayer at night and the best fasting after the month of Ramadan is Al-Muharram.' Shu'bah bin Al-Hajjaj narrated it in Mursal form.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا: ہم سے شعبہ نے، ابو بشر جعفر بن ابی وحشیہ سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا:حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز قیام اللیل ( تہجد ) ہے، اور رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے روزے ہیں ۔ شعبہ بن حجاج نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
It was narrated from Zaid bin Zabyan who attributed it to Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: There are three whom Allah (SWT) loves: A man who comes to some people and asks (to be given something) for the sake of Allah and not for the sake of their relationship, but they do not give him, so a man stayed behind and gave it to him in secret, and no one knew of his giving except Allah (SWT) and the one to whom he gave it. People who travel all night until sleep becomes dearer to them than anything equated with it, so they lay down their heads (and slept), then a man among them got up and started praying to Me and beseeching Me, reciting My Verses. And a man who was on a campaign and met the enemy and they fled, but he went forward (pursuing them) until he was killed or victory was granted.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے منصور کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ربیع کو زید بن زبیان سے سنا، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے: ایک وہ شخص جو کسی قوم کے پاس آیا، اور اس نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا، آپ سی قرابت کا واسطہ دے کر نہیں مانگا، تو انہوں نے اسے نہیں دیا، پھر انہی میں سے ایک آدمی ان کے پیچھے سے آیا، اور چھپا کر چپکے سے اسے دیا، اور اس کے اس صدقہ دینے کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور اس شخص کے جس کو اس نے دیا ہے کوئی نہیں جانتا، اور دوسرا آدمی وہ ہے جس کے ساتھ کے لوگ رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب نیند انہیں بھلی معلوم ہونے لگی تو وہ اترے اور سو رہے، لیکن وہ خود کھڑا ہو کر اللہ کے سامنے عاجزی کرتا رہا، اور اس کی آیتیں تلاوت کرتا رہا، اور تیسرا وہ شخص ہے جو ایک لشکر میں تھا، دشمن سے ان کی مڈبھیڑ ہوئی، تو وہ ہار گئے ( جس کی وجہ سے بھاگنے لگے ) لیکن وہ سینہ سپر رہا یہاں تک کہ وہ مارا جائے، یا اللہ اسے فتح دے ۔
It was narrated that Masruq said:
I said to 'Aishah رضی اللہ عنہا : 'Which deed was most beloved to the Messenger of Allah (ﷺ)?' She said: 'That which was done persistently.' I said: 'At what part of the night did he pray Qiyam?' She said: 'When he heard the rooster.'
ہم سے محمد بن ابراہیم بصری نے بشر کی سند سے جو ابن المفضل ہیں، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے اشعث بن سلیم کی سند سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, مسروق کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون سا عمل تھا؟ تو انہوں نے کہا: جس عمل پر مداومت ہو، میں نے پوچھا: رات میں آپ کب اٹھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: جب مرغ کی بانگ سنتے ۔
It was narrated that 'Asim bin Humaid said:
I asked 'Aishah رضی اللہ عنہا with what did he- meaning the Prophet (ﷺ)- start Qiyam Al-Lail? She said: 'You have asked me something which no one before you has asked. The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the takbir ten times, the tahmid ten times, the tasbih ten times, and the tahlil ten times, and pray for forgiveness ten times, and say: Allahummaghfirli, wahdini, warzuqni wa 'afini. A'udhu billahi min diqil-maqami yawmal-qiyamah (O Allah, forgive me, guide me, grant me provision and good health. I seek refuge with Allah from the difficulty of standing on the Day of Resurrection.)
ہم سے اسماء بن الفضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، وہ معاویہ بن صالح کی سند سے، انہوں نے کہا: ہم سے الازہر بن سعید نے بیان کیا, عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے قیام کی شروعات کس سے کرتے تھے؟ تو وہ کہنے لگیں، تو نے مجھ سے ایک ایسی چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس بار «اللہ اکبر»، دس بار «الحمد للہ»، دس بار «سبحان اللہ» اور دس بار «لا الٰہ الا اللہ» اور دس بار «استغفر اللہ» کہتے تھے، اور «اللہم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني أعوذ باللہ من ضيق المقام يوم القيامة» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے راہ دکھا، مجھے رزق عطا فرما، اور میری حفاظت فرما، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں قیامت کے روز جگہ کی تنگی سے کہتے تھے۔