The Book of Qiyam Al-Lail (The Night Prayer) and Voluntary Prayers During the Day
كتاب قيام الليل وتطوع النهار
Chapter 20
It was narrated from 'Abdullah bin Khabbab bin Al-Aratt رضی اللہ عنہ , from his father who had been present at Badr with the Messenger of Allah (ﷺ), that:
He watched the Messenger of Allah (ﷺ) one night when he prayed all night until Fajr time. When the Messenger of Allah (ﷺ) said the taslim at the end of his prayer, Khabbab رضی اللہ عنہ said to him: 'May my father and mother be ransomed for you O Messenger of Allah, last night you offered a prayer the like of which I have never seen you offer. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Yes indeed. This is a prayer of hope and fear in which I asked my Lord, the Mighty and Sublime, for three things, of which He gave me two and did not grant me one. I asked my Lord not to destroy us with which he destroyed the nations before us, and He granted me that. And I asked my Lord not to let an enemy from without prevail over us, and He granted me that. And I asked my Lord not to divide us into warring factions and He did not grant me that.
ہم سے عمرو بن عثمان بن سعید بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد اور بقیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبید اللہ بن عبداللہ بن حارث بن نوفل نے بیان کیا, خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (وہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے) کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری رات نماز پڑھتے دیکھا یہاں تک کہ فجر ہو گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز سے سلام پھیرا، تو خباب رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے آج رات ایسی نماز پڑھی کہ اس طرح میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہ رغبت اور خوف کی نماز تھی، میں نے اپنے رب سے اس میں تین باتوں کی درخواست کی، تو اس نے دو مجھے دے دیں اور ایک نہیں دی، میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہمیں اس چیز کے ذریعہ ہلاک نہ کرے جس کے ذریعہ اس نے ہم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کیا، تو اس نے یہ مجھے دے دی، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ کسی دشمن کو جو ہم میں سے نہ ہو ہم پر غالب نہ کرے، تو اسے بھی اس نے مجھے دے دیا، اور میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ وہ ہم میں پھوٹ نہ ڈالے، اور ہم گروہ در گروہ نہ ہوں، تو اس نے میری یہ درخواست قبول نہیں کی ۔
It was narrated that Masruq said:
Aishah رضی اللہ عنہا said: ' When the last ten nights of Ramadan began, the Messenger of Allah (ﷺ) stayed up at night (for prayer) and he woke his family up and tightened his waist-wrap.'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے ابو یعفور کی سند سے اور مسلم کی سند سے بیان کیا, مسروق کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ( رمضان کا آخری ) عشرہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب بیداری فرماتے، اور اپنے اہل و عیال کو بیدار کرتے، اور ( عبادت کے لیے ) کمر بستہ ہو جاتے تھے۔
It was narrated that Abu Ishaq said:
I came to Al-Aswad bin Yazid, who was a close friend of mine and said: 'O Abu 'Amr, tell me what the Mother of the Believers told you about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'She said: He used to sleep for the first part of the night and stay up for the latter part.'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا, ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ
میں اسود بن یزید کے پاس آیا، وہ میرے بھائی اور دوست تھے، تو میں نے کہا: اے ابوعمرو! مجھ سے وہ باتیں بیان کریں جن کو ام المؤمنین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بیان کیا ہے، تو انہوں نے کہا: وہ کہتی ہیں کہ آپ شروع رات میں سوتے تھے، اور اس کے آخر کو زندہ رکھتے تھے۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
I do not know that the Messenger of Allah (ﷺ) recited the whole Qur'an in one night, or spent a whole night in worship until dawn, or that he ever fasted an entire month apart from Ramadan.
ہم سے ہارون بن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدہ بن سلیمان نے سعید کی سند سے، قتادہ کی سند سے، زرارہ بن اوفی سے اور سعد بن ہشام کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، یا رات بھر صبح تک عبادت کی ہو، یا پورے مہینے روزے رکھے ہوں، سوائے رمضان کے۔
It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) came in to her and there was a woman with her. He said: Who is this? She said: So-and-so, and she does not sleep. And she told him about how she prayed a great deal. He said: Stop praising her. You should do what you can, for by Allah (SWT), Allah never gets tired (of giving reward) until you get tired. And the most beloved of religious actions to Him is that in which a person persists.
ہم سے شعیب بن یوسف نے یحییٰ کی سند سے اور ہشام کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اور ان کے پاس ایک عورت ( بیٹھی ہوئی ) تھی تو آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں ( عورت ) ہے جو سوتی نہیں ہے، پھر انہوں نے اس کی نماز کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چپ رہو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تمہیں طاقت ہو، قسم اللہ کی، اللہ نہیں تھکتا ہے یہاں تک کہ تم تھک جاؤ، پسندیدہ دین ( عمل ) اس کے نزدیک وہی ہے جس پر آدمی مداومت کرے ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) entered the masjid and saw a rope tied between two pillars. He said: What is this? They said: It is for Zainab when she prays; if she gets tired she holds on to it. The Prophet (ﷺ) said: Untie it. Let any one of you pray as long as he has energy, and if he gets tired let him sit down.
ہم سے عمران بن موسیٰ نے عبد الوارث کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے دو ستونوں کے درمیان میں ایک لمبی رسی دیکھی، تو آپ نے پوچھا: یہ رسی کیسی ہے؟ تو لوگوں نے عرض کیا: زینب ( زینب بنت جحش ) کی ہے وہ نماز پڑھتی ہیں، جب کھڑے کھڑے تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک جاتی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھولو اسے، تم میں سے کوئی بھی ہو جب تک اس کا دل لگے نماز پڑھے، اور جب تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔
It was narrated that Ziyad bin Ilaqah said:
I heard Al-Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ say: 'The Prophet (ﷺ) stood (in prayer at night) until his feet swelled up, and it was said to him: Allah has forgiven your past and future sins. He said: Should I not be a thankful slave?'
ہم سے قتیبہ بن سعید اور محمد بن منصور نے (اور ان کا قول ہے) نے سفیان کی سند سے زیاد بن علقہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پیر سوج جاتے، تو آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں ( پھر آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں ) تو آپ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray until he developed fissures in his feet.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے صالح بن مہران نے جو ثقہ تھے، بیان کیا، کہا: ہم سے نعمان بن عبد السلام نے سفیان کی سند سے، عاصم بن کلیب سے، اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں پھٹ جاتے تھے۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray for a long time at night. If he started to pray standing, he would bow standing and if he started to pray sitting, he would bow sitting.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے بیان کیا، بدیل اور ایوب دونوں عبداللہ بن شفیق سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کافی دیر تک نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے کھڑے ہی رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو بیٹھ کر رکوع کرتے۔
It was narrated hat Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray standing and sitting. If he started to pray standing, he would bow standing and if he started to pray sitting, he would bow sitting.
ہم سے عبدہ بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا, ابن سیرین عبداللہ بن شفیق سے اور عبداللہ بن شقیق ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر شروع کرتے تو بیٹھے بیٹھے ہی رکوع کرتے۔
It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) used to pray when he was sitting. He would recite while sitting, then when there were thirty or forty verses left, he would stand up and recite while standing, then he bowed and prostrated, then he would do likewise in the second rak'ah.
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن القاسم نے مالک کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن یزید اور ابو نضر نے ابو سلمہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور بیٹھے ہوتے، اور قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، پھر جب آپ کی قرآت میں تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر باقی رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے، اور کھڑے ہو کر قرآت کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں ( بھی ) ایسے ہی کرتے۔
It was narrated that Aishah رضی اللہ عنہا said:
I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) pray sitting down until he grew old. Then he would pray sitting down and when there were thirty or forty verses left, he would stand up and recite them, then bow.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، کہا: ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہو یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے، تو ( جب آپ بوڑھے ہو گئے ) تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھ کر قرآت کرتے، پھر جب سورۃ میں سے تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو ان کی قرآت کھڑے ہو کر کرتے، پھر رکوع کرتے۔
It was narrated that Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite sitting, and when he wanted to bow he would stand up for as long as it takes a person to recite forty verses.
ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ولید بن ابی ہشام نے، ابوبکر بن محمد کی سند سے، انہوں نے عمرہ کی سند سے, عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، تو جب آپ رکوع کرنا چاہتے تو آدمی کے چالیس آیتیں پڑھنے کے بقدر ( باقی رہنے پر ) کھڑے ہو جاتے۔
It was narrated that Sa'd bin Hisham bin 'Amir said:
I came to Al-Madinah and entered upon Aishah رضی اللہ عنہا. She said: 'Who are you?' I said: 'I am Sa'd bin Hisham bin 'Amir.' She said: 'May Allah have mercy on your father.' I said: 'Tell me about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ).' She said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) did such and such.' I said: 'Yes indeed.' She said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray Isha' at night, then he would go to his bed and sleep. In the middle of the night, he would get up to relieve himself and go to his water for purification and perform wudu. Then he went into the Masjid and prayed eight rak'ahs. I think he made the recitation, bowing and prostration equal in length. Then he prayed one rak'ah of witr, then he prayed two rak'ahs sitting down. Then he lay down on his side. Sometimes Bilal would come and tell him that it was time to pray before he napped, and sometimes he napped. And sometimes I was not sure if he had napped or not before he told him that it was time to pray. This is how the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray until he grew older and gained weight - and she mentioned whatever Allah (SWT) willed about his gaining weight. She said: And the Prophet (ﷺ) used to lead the people in praying witr, then he would go to his bed. In the middle of the night, he would get up and go to water for purification, and to relieve himself, then he would perform wudu. Then he would go into the masjid and pray six rak'ahs, and I think he made the recitation, bowing, and prostration equal in length. Then he prayed one rak'ah of witr, then he prayed two rak'ahs sitting down. Then he lay down on his side. Sometimes Bilal رضی اللہ عنہ would come and tell him that it was time to pray before he napped, and sometimes he napped. And sometimes I was not sure if he had napped or not before he told him that it was time to pray. She said: And this is how the Messenger of Allah (ﷺ) continued to pray.
ہم سے عمرو بن علی نے عبد الاعلی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ہشام نے حسن کی سند سے بیان کیا, سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں
میں مدینہ آیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سعد بن ہشام بن عامر ہوں، انہوں نے کہا: اللہ تمہارے باپ پر رحم کرے، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق کچھ بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ایسا کرتے تھے، میں نے کہا: اچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں عشاء کی نماز پڑھتے تھے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف آتے اور سو جاتے، پھر جب آدھی رات ہوتی، تو قضائے حاجت کے لیے اٹھتے اور وضو کے پانی کے پاس آتے، اور وضو کرتے، پھر مسجد آتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، تو پھر ایسا محسوس ہوتا کہ ان میں قرآت، رکوع اور سجدے سب برابر برابر ہیں، اور ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے، پھر آپ اپنے پہلو کے بل لیٹ جاتے، تو کبھی اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ لگے بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آتے، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے، اور کبھی آپ کی آنکھ لگ جاتی، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ سوئے یا نہیں سوئے یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی، یہاں تک کہ آپ عمردراز ہو گئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا، پھر انہوں نے آپ کے جسم پر گوشت چڑھنے کا حال بیان کیا جو اللہ نے چاہا، وہ کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے، پھر اپنے بچھونے کی طرف آتے، تو جب آدھی رات ہو جاتی تو آپ اپنی پاکی اور حاجت کے لیے اٹھ کر جاتے، پھر وضو کرتے، پھر مسجد آتے تو چھ رکعتیں پڑھتے، ایسا محسوس ہوتا کہ آپ ان میں قرآت، رکوع اور سجدے میں برابری رکھتے ہیں، پھر آپ ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، پھر اپنے پہلو کے بل لیٹتے تو کبھی بلال رضی اللہ عنہ آپ کی آنکھ لگنے سے پہلے ہی آ کر نماز کی اطلاع دیتے، اور کبھی آنکھ لگ جانے پر آتے، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ کی آنکھ لگی یا نہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، وہ کہتی ہیں: تو برابر یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رہی۔
It was narrated that Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) did not refrain from (kissing) my forehead when he was fasting, and he did not die until most of his prayers were offered sitting down. Then she said something to the effect that (referred to the prayers) other than the obligatory prayers. And the dearest of actions to him was that in which a person persists, even if it is little. Yunus contradicted him, he reported it from Abu Ishaq, from Al-Aswad, from Umm Salamah رضی اللہ عنہا .
ہم سے عمرو بن علی نے ابو عاصم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عمر بن ابی زایدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابواسحاق نے اسود کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرے چہرے سے نہیں بچتے تھے اور آپ کی وفات نہیں ہوئی یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے، اور سب سے زیادہ پسندیدہ عمل آپ کے نزدیک وہ تھا جس پر آدمی مداومت کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ یونس نے عمر بن ابی زائدہ کی مخالفت کی ہے یونس نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے اسود سے اور اسود نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔
It was narrated from Al-Aswad, that Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) did not pass away until most of his prayers were offered sitting down, except for the obligatory prayers.
ہم سے سلیمان بن سلم بلخی نے بیان کیا، کہا: ہم سے النضر نے بیان کیا، کہا: ہمیں یونس نے ابواسحاق کی سند سے اور اسود سے,ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے۔ شعبہ اور سفیان نے یونس بن شریک کی مخالفت کی ہے، ان دونوں نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ام سلمہ سے روایت کی۔
It was narrated from Abu Salamah, that Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) did not pass away until most of his prayers were offered sitting down, except for the obligatory prayers, and the dearest of actions to him were those which were done persistently, even if they were few.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے شعبہ کی سند سے، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے کہا: میں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی اکثر و بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔
It was narrated from Abu Salamah, that Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
By the One in Whose Hand is my soul. The Messenger of Allah (ﷺ) did not pass away until most of his prayers were offered sitting down, except for the obligatory prayers, and the dearest of actions to him were those which were done persistently, even if they were few.
ہم سے عبداللہ بن عبد الصمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابواسحاق سے اور ابو سلمہ سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے، اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر مداومت کی جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ عثمان بن ابی سلیمان نے ابواسحاق کی مخالفت کی ہے انہوں نے اسے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ۔
Abu Salamah narrated that Aishah رضی اللہ عنہا told him:
The Prophet (ﷺ) did not die until most of his prayers were offered sitting down.
ہم سے حسن بن محمد نے حجاج کی سند سے بیان کیا, ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھے عثمان بن ابی سلیمان نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے انہیں خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ اپنی بیشتر نمازیں بیٹھ کر پڑھنے لگے تھے۔
It was narrated that Abdullah bin Shaqiq said:
I said to Aishah رضی اللہ عنہا : 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) pray sitting down?' She said: 'Yes, after the people had worn him out.'
ہم سے ابو اشعث نے یزید بن زریع کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں الجریری نے خبر دی،عبداللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اس کے بعد کہ لوگوں نے آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو کمزور کر دیا۔