The Book of Qiyam Al-Lail (The Night Prayer) and Voluntary Prayers During the Day
كتاب قيام الليل وتطوع النهار
Chapter 20
It was narrated that Hafsah رضی اللہ عنہا said:
I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) offer his voluntary prayers sitting down until one year before his death. Then he used to pray sitting down, reciting the surah so slowly that it seemed to be longer than a surah that is longer.
ہمیں قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، سائب بن یزید کی سند سے، المطلب بن ابی وداع کی سند سے, ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ اپنی وفات سے ایک سال قبل آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے، آپ سورت پڑھتے تو اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ طویل سے طویل تر ہو جاتی۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہم said:
I saw the Prophet (ﷺ) praying sitting down and I said: 'I was told that you said that the prayer of one who is sitting down is worth half of the prayer of the one who is standing up.' He said: 'Yes indeed, but I am not like any one of you.'
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، انہوں نے کہا: ہم سے منصور نے ہلال بن یاصف سے اور ابو یحییٰ سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے عرض کیا کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے آدھی ہوتی ہے، اور آپ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں لیکن میں تم لوگوں کی طرح نہیں ہوں ۔
It was narrated that 'Imran bin Husain رضی اللہ عنہما said:
I asked the Prophet (ﷺ) about one who prays sitting down. He said: 'Whoever prays standing up is better, and one who prays sitting down will have half the reward of one who prays standing up. And whoever prays lying down will have half the reward of one who prays sitting down.'
ہم سے حمید بن مسعدہ نے سفیان بن حبیب کی سند سے، حسین المعلم کی سند سے اور عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: جس نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی وہ سب سے افضل ہے، اور جس نے بیٹھ کر نماز پڑھی تو اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کا آدھا ثواب ملے گا، اور جس نے لیٹ کر نماز پڑھی تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے آدھا ملے گا ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
I saw the Prophet (ﷺ) praying while sitting cross-legged. Abu Abdur Rahman (An Nasa'i) said: I do not know of anyone who reported this hadith other than Abu Dawood and he trustworthy, and I do not consider this hadith to be but a mistake, and Allah knows best.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوداؤد حفری نے حفص کی سند سے، حمید نے عبداللہ بن شقیق سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پالتی مار کر بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ ابوداؤد حفری کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور ابوداؤد ثقہ ہیں اس کے باوجود میں اس حدیث کو غلط ہی سمجھتا ہوں، واللہ اعلم ۔
It was narrated that Abdullah bin Abi Qais said:
I asked Aishah رضی اللہ عنہا : How did the Messenger of Allah (ﷺ) recite at night- did he recite loudly or silently? She said: 'He used to do both; sometimes he recited loudly and sometimes he recited silently.'
ہم سے شعیب بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن نے معاویہ بن صالح کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کس طرح قرآت کرتے تھے، جہری یا سری؟ تو انہوں نے کہا: آپ ہر طرح سے پڑھتے، کبھی جہراً پڑھتے، اور کبھی سرّاً پڑھتے۔
It was narrated from Kathir bin Murrah رضی اللہ عنہ that:
'Uqbah bin 'Amir told them that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The one who recites the Qur'an loudly is like one who gives charity openly, and the one who recites the Qur'an silently is like the one who gives charity in secret.'
ہم سے ہارون بن محمد بن بکر بن بلال نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے، جس کا مطلب ہے ابن سمیع نے، کہا: ہم سے زید نے، جس کا مطلب ہے ابن واقد نے، کثیر بن مرہ کی سند سے بیان کیا,عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جہر سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اعلان کر کے صدقہ کرتا ہے، اور جو آہستہ قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو چھپا کر چپکے سے صدقہ کرتا ہے ۔
It was narrated that Hudhaifah رضی اللہ عنہ said:
I prayed with the Prophet (ﷺ) one night. He started to recite Al-Baqarah and I thought, 'he will bow when he reaches one hundred,' but he carried on. I thought, 'he is going to recite the whole surah in one rak'ah,' but he carried on. He started to recite An-Nisa' and recited (the whole surah), then he started to recite Al Imran and recited (the whole surah), reciting slowly. When he reached a verse that spoke of glorifying Allah (SWT), he glorified Him. When he reached a verse that spoke of supplication, he made supplication. When he reached a verse that spoke of seeking refuge with Allah, he sought refuge with Him. Then he bowed and said: 'Subhana Rabbiyal-Azim.(Glory be to my Lord Almighty)', and he bowed for almost as long as he had stood. Then he raised his head and said: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him)', and he stood for almost as long as he had bowed. Then he prostrated and started to say: Subhana Rabbiyal-'Ala (Glory be to my Lord Most High),' and he prostrated for almost as long as he had bowed.'
ہم سے حسین بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے اعمش نے سعد بن عبیدہ سے، مستورد بن احنف سے اور صلاح بن ظفر سے, حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ بڑھ گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ دو سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ اس سے بھی آگے بڑھ گئے، تو میں نے اپنے جی میں کہا: آپ ایک ہی رکعت میں پوری سورۃ پڑھ ڈالیں گے، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور سورۃ نساء شروع کر دی، اور اسے پڑھ چکنے کے بعد سورۃ آل عمران شروع کر دی، اور پوری پڑھ ڈالی، آپ نے یہ پوری قرآت آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر کی، اس طرح کہ جب آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح ( پاکی ) کا ذکر ہوتا تو آپ اس کی پاکی بیان کرتے، اور جب کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے، اور جب کسی پناہ کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور « سبحان ربي العظيم» پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے کہا، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا، آپ کا قیام تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» پاک ہے میرا رب جو اعلیٰ ہے پڑھ رہے تھے، اور آپ کا سجدہ تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا۔
It was narrated from Hudhaifah رضی اللہ عنہ that:
He prayed with the Messenger of Allah during Ramadan. He bowed and said: Subhana Rabbiyal-Azim while bowing, for as long as he had stood. Then he sat down and said: Rabbighfirli, Rabbighfirli (Lord forgive me, Lord forgive me), for as long as he had stood. Then he prostrated and said: Subhana Rabbiyal-'Ala for as long as he had stood And he prayed no more than four rak'ahs when Bilal رضی اللہ عنہ came for Al-Ghadah.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے النضر بن محمد المروزی ثقہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے العلاء بن المسیب نے عمرو بن مرہ کی سند سے اور طلحہ بن یزید الانصاری کی سند سے بیان کیا, حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں نماز پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، اور یہ اتنا ہی لمبا تھا جتنا آپ کا قیام تھا، آپ نے اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہا، پھر آپ اتنی ہی دیر بیٹھے جتنی دیر کھڑے تھے، اور «رب اغفر لي رب اغفر لي» کہتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی دیر تک سجدہ کیا جتنی دیر تک آپ کھڑے تھے، اور «سبحان ربي الأعلى» کہتے رہے تو آپ نے صرف چار رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے بلانے آ گئے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ( منقطع ) ہے، میں نہیں جانتا کہ طلحہ بن یزید نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کچھ سنا ہے، علاء بن مسیب کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں یوں کہا: «عن طلحۃ، عن رجل، عن حذیفۃ»۔
It was narrated from Ya'la bin Ata that:
He heard Ali Al-Azdi (say) that he heard Ibn Umar narrate that: The Prophet (ﷺ) said: The prayers of the night and day are two by two. Abu Abdur Rahman (An-Nasa'i) said: This Hadith to me, is a mistake, and Allah, most high, knows best.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر اور عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے یعلی بن عطاء کی سند سے بیان کیا
انہوں نے علی الازدی کو کہتے سنا کہ میں نے ابن عمر کو بیان کرتے ہوئے سنا:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میرے خیال میں اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے واللہ اعلم۔
It was narrated that Tawus said: Ibn Umar رضی اللہ عنہم said:
A man asked the Messenger of Allah (ﷺ) about prayer at night. He said: Two by two, and if you fear that dawn will come, then one.'
ہم سے محمد بن قدامہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے منصور کی سند سے، حبیب سے اور طاؤس کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو ۔
It was narrated from Salim, from his father, that:
The Prophet (ﷺ) said: Prayers at night are two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one rak'ah.
ہم سے عمرو بن عثمان اور محمد بن صدقہ نے بیان کیا: ہم سے محمد بن حرب نے الزبیدی کی سند سے، زہری کی سند سے، سالم کی سند سے، اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تجھے صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر یعنی طاق کر لو ۔
It was narrated that Ibn Umar رضی اللہ عنہم said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) on the minbar, when he was asked about prayers at night, say: Two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one rak'ah.'
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابن ابی لبید سے اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے منبر پر فرماتے سنا: آپ سے رات کی صلاۃ کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: وہ دو دو رکعت ہے، لیکن جب تمہیں صبح ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو تو ایک رکعت سے وتر کر لو ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہم told them that:
A man asked the Messenger of Allah (ﷺ)about prayers at night, and he said: Two by two, then if one of you fears that dawn will come, let him pray witr with one.
ہم سے موسیٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے احمد بن عبداللہ بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسن بن حریر نے بیان کیا، کہا: ہم سے نافع نے بیان کیا کہ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: دو دو رکعت ہے، لیکن اگر تم میں سے کوئی صبح ہو جانے کا خطرہ محسوس کرے، تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لے ۔
It was narrated from Ibn Umar رضی اللہ عنہم that:
The Prophet (ﷺ) said: prayers at night are (offered) two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو ۔
It was narrated that Ibn Umar رضی اللہ عنہم said:
A man from among the Muslims asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'How are prayers at night to be done?' He said: 'prayers at night are (offered) two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one.'
ہم سے احمد بن محمد بن مغیرہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عثمان نے شعیب کی سند سے، زہری کی سند سے، سالم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
مسلمانوں میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پس جب تمہیں صبح ہو جانے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو ۔
It was narrated that Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہم said that:
A man asked the Messenger of Allah (ﷺ) about prayers at night. The Messenger of Allah (ﷺ) said: prayers at night are (offered) two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن اخی بن شہاب نے اپنے چچا کی سند سے بیان کیا، کہا: مجھ سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح کا ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو ۔
It was narrated that Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہم said:
A man stood up and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), how are the prayers at night to be done?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Prayers at night are (offered) two by two, then if you fear that dawn will come, pray witr with one.'
ہم سے احمد بن الہیثم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حرملہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا، کہا کہ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے کھڑے ہو کر پوچھا: اللہ کے رسول! رات کی نماز کیسے پڑھی جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور جب تمہیں صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ کر وتر کر لو ۔
It was narrated that Ali رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: O people of the Qur'an, pray witr, for Allah, the Mighty and Sublime, is Witr (One) and loves Al-Witr (the odd numbered).'
ہم سے ہناد بن السری نے ابو بکر بن عیاش کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے، عاصم کی سند سے جو ابن ضمرہ ہیں,علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی، پھر فرمایا: اے اہل قرآن! وتر پڑھو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر ہے، اور وتر کو محبوب رکھتا ہے ۔
It was narrated that Ali رضی اللہ عنہ said:
Witr is not essential like the obligatory prayers, but it is the sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ).
مجھ سے محمد بن اسماعیل بن ابراہیم نے ابو نعیم کی سند سے، سفیان کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے، عاصم بن ضمرہ کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وتر فرض نماز کی طرح کوئی حتمی و واجبی چیز نہیں ہے، البتہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
My dearest friend advised me (to do) three things: 'To sleep after praying Witr, to fast three days each month, and to pray two rak'ahs of Fajr.'
ہم سے سلیمان بن سلم اور محمد بن علی بن حسن بن شقیق نے نضر بن شمئل کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابو شمر کی سند سے اور ابو عثمان کی سند سے خبر دی, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے: وتر پڑھ کر سونے کی، ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی، اور چاشت کی دونوں رکعتیں پڑھنے کی۔