Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
Muhammad bin ‘Amr bin ‘Ata’ رضی اللہ عنہ said:
“I heard Abu Humaid As-Sa’idi say: ‘When the Messenger of Allah (ﷺ) stood up for prayer, he would face the prayer direction, raise his hands, and say: “Allahu Akbar (Allah is Most Great).”
ہم سے علی بن محمد الطنافیسی نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، مجھ سے عبدالحمید بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہوتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر «الله أكبر»کہتے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to start his prayer by saying: ‘Subhanaka Allahumma wa bi hamdika, wa tabarakas-muka, wa ta’ala jadduka, wa la ilaha ghairuka (Glory and praise be to You, O Allah, blessed be Your Name and exalted be Your majesty, none has the right to be worshipped but you).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے زید بن الحبب نے بیان کیا، مجھ سے جعفر بن سلیمان الدبی نے بیان کیا، مجھ سے علی بن علی الرفاعی نے بیان کیا، ابو المتوکل کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو پاک ہے اور سب تعریف تیرے لیے ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) said the Takbir (Allah Akbar), he would remain silent between the Takbir and the recitation. I said: ‘May my father and mother be ransomed for you! I noticed that you are silent between the Takbir and the recitation; please tell me what you say then.’ He said: ‘I say: ‘Allahumma ba’id baini wa baina khatayaya kama ba’adta bainal-mashriqi wal-maghrib; Allahumma naqqini min khatayay kath-thawbil abyad minad- danas; Allahummaghsilni min khatayaya bil-ma’i waththalji wal-barad (O Allah, distance me from my sins as You have distanced the east from the west; O Allah purify me of my sins as a white garment is purified of dirt; O Allah, cleanse me of my sins with water and snow and hail).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے محمد بن فضیل نے عمارہ بن قعقاع سے اور ابو زرعہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے تو تکبیر اور قرات کے درمیان تھوڑی دیر خاموش رہتے، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بتائیے آپ تکبیر و قرات کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں تو اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں یہ دعا پڑھتا ہوں: «اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كالثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان ایسی دوری کر دے جیسی دوری تو نے مشرق و مغرب کے درمیان رکھی ہے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے ویسے ہی صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل و کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے ۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا :
When the Prophet (ﷺ) started Salat he would say: “Subhanak Allahumma wa bi hamdika, wa tabarakas- muka wa ta’ala jadduka, wa la ilaha ghayruk (Glory and praise is to You, O Allah, blessed is Your Name and exalted is Your majesty, none has the right to be worshipped but You).”
ہم سے علی بن محمد اور عبداللہ بن عمران نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حارثہ بن ابی الرجال نے عمرہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» اے اللہ! تو پاک ہے اور ساری تعریفیں تیرے لیے ہیں، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں ۔
It was narrated from Ibn Jubair bin Mut’im رضی اللہ عنہ that his father said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he started the prayer. He said: ‘Allahu Akbaru kabiran, Allahu Akbaru kabiran (Allah is the Most Great indeed),’ three times; ‘Al-hamdu Lillahi kathiran, al-hamdu Lillahi kathiran (Much praise is to Allah),’ three times; ‘Subhan Allahi bukratan wa asilan (Glory is to Allah morning and evening),’ three times; ‘Allahumma inni a’udhu bika minash-Shaitanir-rajim, min hamzihi wa nafkhihi wa nafthihi (O Allah, I seek refuge in You from the accursed Satan, from his madness, his poetry, and his pride).”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، عاصم الانازی سے، ابن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو آپ نے «الله أكبر كبيرا» تین مرتبہ، «الحمد لله كثيرا» تین مرتبہ، «سبحان الله بكرة وأصيلا» تین مرتبہ کہا، اور پھر «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» پڑھا اے اللہ! میں مردود شیطان کے جنون، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ شیطان کا«ہمز» اس کا جنون، «نفث» اس کا شعر ہے، اور «نفخ» اس کا کبر ہے۔
It was narrated from Ibn Mas’ud رضی اللہ عنہ that the Prophet (ﷺ) said:
“Allahumma inni a’udhu bika minash-Shaitanir-rajim, wa hamzihi wa nafkhihi wa mafthihi (O Allah, I seek refuge in You from the accursed Satan, from his madness, his pride, and his poetry).”
ہم سے علی بن المنذر نے بیان کیا، ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ہم سے عطاء بن السائب نے بیان کیا، ابو عبدالرحمٰن السلمی کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم وهمزه ونفخه ونفثه» اے اللہ! میں مردود شیطان کے جنون، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں: «ہمز» سے مراد اس کا جنون ہے، «نفث» سے مراد شعر ہے اور «نفخ» سے مراد کبر و غرور ہے ۔
It was narrated from Qabisah bin Hulb رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Prophet (ﷺ) used to lead us in prayer, and he would take hold of his left hand with his right.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحواس نے بیان کیا، ان سے سماک بن حرب نے، ان سے قبیصہ بن ہلب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے پکڑے رہتے تھے۔
It was narrated that Wa’il bin Hujr رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Prophet (ﷺ) performing prayer, and he took hold of his left hand with his right.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا اور ہم سے بشر بن معاذ الدار نے بیان کیا، ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے عاصم بن کلیب نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا , وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے پکڑا۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) passed by me, and I was putting my left hand on my right. He took hold of my right hand and put it on my left.”
ہم سے ابواسحاق ہراوی ابراہیم بن عبداللہ بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی، ہمیں حجاج بن ابی زینب السلمی نے خبر دی، ابو عثمان النہدی کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر بائیں ہاتھ پر رکھ دیا.
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, ‘Umar and ‘Uthman used to start their recitation with “All praises and thanks are to Allah, the Lord of all that exists. (Al- hamdu Lillahi Rabbil-‘Alamin).’” [1:2]
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے حسین المعلم کی سند سے، وہ بدیل بن میسرہ کی سند سے، انہوں نے ابو الجوزا کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع کرتے تھے۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr and ‘Umar رضی اللہ عنہما used to start their recitation with ‘All the praises and thanks are to Allah, the Lord of all that exists (Al-hamdu Lillahi Rabbil-‘Alamin).” [1:2]
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، وہ ایوب سے، وہ قتادہ نے، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور ہم سے جبارہ بن المغلس نے بیان کیا، ہم سے ابو عونہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا ,انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع کرتے تھے.
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) used to start his recitation with ‘All the praises and thanks are to Allah, the Lord of all that exists’ (Al-hamdu Lillahi Rabbil-‘Alamin),’ [1: 2]
ہم سے نصر بن علی الجہضمی، بکر بن خلف اور عقبہ بن مکرم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے بشر بن رافع نے بیان کیا، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ابو عبداللہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع فرماتے تھے۔
Ibn ‘Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ narrated from his father and he said:
“I have rarely seen a man for whom innovation in Islam was harder to bear than him. He heard me reciting: ‘In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful’ Bismillahir-Rahmanir-Rahim and he said: ‘O my son, beware of innovation, for I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ), and with Abu Bakr, and with ‘Umar, and with ‘Uthman رضی اللہ عنہم, and I never heard any of them saying this. When you (begin to) recite, say: ‘All the praises and thanks are to Allah, the Lord of all that exists.’ (Al-hamdu Lillahi Rabbil-‘Alamin).’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے الجریری سے اور قیس بن عبایہ رضی اللہ عنہ سے, ابن عبداللہ بن مغفل اپنے والد عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
میں نے ایسا آدمی بہت کم دیکھا جس کو اسلام میں نئی بات نکالنا ان سے زیادہ ناگوار ہوتا ہو، انہوں نے مجھے «بسم الله الرحمن الرحيم» ( بآواز ) بلند پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: بیٹے! تم اپنے آپ کو بدعات سے بچاؤ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «بسم الله الرحمن الرحيم» بآواز بلند پڑھتے ہوئے نہیں سنا، لہٰذا جب تم قراءت کرو تو «الحمد لله رب العالمين» سے کرو۔
It was narrated from Qutbah bin Malik رضی اللہ عنہ :
He heard the Prophet (ﷺ) recite: “And tall date palms, with ranged clusters” [50:10] in the Subh.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے شریک نے بیان کیا اور ہم سے سفیان بن عیینہ نے زیاد بن علقہ سے بیان کیا, قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں آیت کریمہ: «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھتے ہوئے سنا ۔
It was narrated that ‘Amr bin Huraith رضی اللہ عنہ said:
“I performed prayer with the Prophet (ﷺ) when he was reciting in the Fajr, and it is as if I can hear him reciting: ‘So verily, I swear by the planets that recede. And by the planets that move swiftly and hide themselves.’”[81:15-16]
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، عمرو بن حریث کے آزاد کردہ غلام اصبغ سے, عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ فجر میں: «فلا أقسم بالخنس الجوار الكنس» ۱؎کی قراءت فرما رہے تھے، گویا کہ میں یہ قراءت اب بھی سن رہا ہوں۔
It was narrated from Abu Barzah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite between sixty and one hundred (Verses) in Fajr prayer.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن العوام نے عوف کی سند سے، ابو المنہال کی سند سے، ابو برزہ کی سند سے اور ہم سے سوید نے بیان کیا، کہا: ہم سے معتمر بن سلیمان نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ان سے ابو المنہال نے بیان کیا, ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ ( ۶۰ ) آیات سے سو ( ۱۰۰ ) آیات تک پڑھا کرتے تھے۔
It was narrated that Abu Qatadah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to lead us in prayer, and he would lengthen the first Rak’ah of the Zuhr and shorten the second Rak’ah, and he would do likewise in the Subh
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے حجاج الصوف کی سند سے، یحییٰ بن ابی کثیر نے، عبداللہ بن ابی قتادہ کی سند سے اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح فجر کی نماز میں بھی کرتے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Sa’ib رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) recited Al-Mu’minun [Al-Mu’minun 23] in the Subh prayer, and when he came to the mention of ‘Eisa, he was overcome with a cough, so he bowed in Ruku’.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج کی سند سے اور ابن ابی ملیکہ کی سند سے, عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں «سورۃ مومنون» کی تلاوت فرمائی، جب اس آیت پہ پہنچے جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے، تو آپ کو کھانسی آ گئی، اور آپ رکوع میں چلے گئے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“For the Subh prayer on Fridays, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite ‘Alif-Lam-Mim. The revelation...’ [32:1] and ‘Has there not been over man...’” [76:1]
ہم سے ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے مکوال کی سند سے، مسلم البطین کی سند سے، سعید بن جبیر کی سند سے بیان کیا , عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل السجدة» ( سورۃ سجدۃ ) ، اور «هل أتى على الإنسان» ( سورۃ الدہر ) پڑھتے تھے ۔
It was narrated from Mus’ab bin Sa’d رضی اللہ عنہ that his father said:
“For the Fajr prayer on Fridays, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite ‘Alif-Lam-Mim. The revelation...’ [32:1] and ‘Has there not been over man...’” [76:1]
ہم سے ازہر بن مروان نے بیان کیا، کہا ہم سے حارث بن نبھان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عاصم بن بہدلہ نے بیان کیا، ان سے مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔